ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ آج سے ، کم ہوسکتی ہے سیشن کی مدت

Budget Session: بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ ایسے وقت میں شروع ہورہا ہے جب سبھی سیاسی پارٹیوں کی توجہ مغربی بنگال ، تمل ناڈو ، آسام ، کیرالہ اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات پر مرکوز ہے ۔ ان ریاستوں میں 27 مارچ سے 29 اپریل تک الیکشن ہونے والے ہیں ۔

  • Share this:
پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ آج سے ، کم ہوسکتی ہے سیشن کی مدت
پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ آج سے ، کم ہوسکتی ہے سیشن کی مدت

چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام خطہ میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کی مدت میں کمی کی جاسکتی ہے اور مختلف پارٹیوں کے لیڈران اس خیال سے متفق ہیں ۔ یہ جانکاری اتوار کو ذرائع نے دی ۔ ذرائع نے کہا کہ یہ ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ سیشن میں کتنے دنوں کی کٹوتی ہوگی ، لیکن اس طرح کے مشورے دئے گئے ہیں کہ تقریبا دو ہفتے کی کٹوتی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ پیر کو ایوان کے لیڈروں کی میٹنگ میں کیا جاسکتا ہے ۔


اس درمیان لوک سبھا سکریٹریٹ نے پارلیمنٹ احاطہ کے اندر اراکین کے ٹیکہ کاری کا بندوبست کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکہ کاری مہم کے بعد صبح گیارہ بجے سے دونوں ایوانوں کی ایک ساتھ میٹنگ ہوسکتی ہے ۔ موجودہ دور میں کورونا وبا کی وجہ س ایوان کی میٹنگ دو سیشن میں ہوتی ہے ۔ راجیہ سبھا کارروائی صبح میں اور لوک سبھا کی کارروائی شام میں چلتی ہے ۔ بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ آٹھ مارچ سے آٹھ اپریل تک مقرر ہیں ۔


بتادیں کہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ آج سے شروع ہورہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق دوسرے مرحلہ میں سرکار کی توجہ اصل طور پر فائنانشیل ایکٹ کو منظور کرانے پر مرکوز ہوگی ۔ نیز سرکار اس سیشن میں کئی بلوں کو بھی پاس کرانے کی کوشش کرے گی ۔ اس شیشن کا اختتام آٹھ اپریل کو ہوگا ۔


بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ ایسے وقت میں شروع ہورہا ہے جب سبھی سیاسی پارٹیوں کی توجہ مغربی بنگال ، تمل ناڈو ، آسام ، کیرالہ اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات پر مرکوز ہے ۔ ان ریاستوں میں 27 مارچ سے 29 اپریل تک الیکشن ہونے والے ہیں ۔ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ الیکشن کی تشہیر کی خاطر کئی علاقائی پارٹیوں کے سینئر لیڈران ایوان کے اجلاس میں غیر حاضر رہیں گے۔

بتادیں کہ سیشن کا پہلا مرحلہ 29 جنوری کو شروع ہوا تھا ، جس میں صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا ۔ صدر کے خطاب کا کانگریس سمیت 20 سے زیادہ اپوزیشن پارٹیوں نے مرکز کے تین نئے زرعے قوانین کو رد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بائیکاٹ کیا تھا ۔ علاوہ ازیں یکم فروری کو عام بجٹ پیش کیا گیا تھا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 08, 2021 07:53 AM IST