ہوم » نیوز » وطن نامہ

آسام میں این آرسی کی حتمی فہرست کی اشاعت کل ۔ سکیورٹی کے انتظامات سخت

آسام میں این آر سی کی حتمی فہرست کی اشاعت کل ہے۔ فہرست کی اشاعت سے قبل آسام میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ گوہاٹی سمیت کئی اضلاع میں دفعہ144 نافذ کردی گئی ہے۔ مرکزنے سینٹرل آرمڈ پولیس فورسیز کی51 کمپنیاں روانہ کی ہیں۔

  • Share this:
آسام میں این آرسی کی حتمی فہرست کی اشاعت کل ۔ سکیورٹی کے انتظامات سخت
علامتی تصویر

آسام میں این آر سی کی حتمی فہرست کی اشاعت کل ہے۔ فہرست کی اشاعت سے قبل آسام میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ گوہاٹی سمیت کئی اضلاع میں دفعہ144 نافذ کردی گئی ہے۔ مرکزنے سینٹرل آرمڈ پولیس فورسیز کی51 کمپنیاں روانہ کی ہیں۔اس درمیان، بی جےپی سمیت بڑی سیاسی جماعتوں نے بڑی تعداد معقول ہندوستانی شہریوں کے نام چھوٹنے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

آسام میں قومی شہریت رجسٹریعنی این آر سی کی تیاری کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔ کل 31 اگستکو این آرسی کی فائنل لسٹ جاری کی جائے گی. اس کے بعد آسام میں رہنے والے 41 لاکھ افراد کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ این آر سی کے حوالے سے کشیدہ ماحول کے پیش نظر پوری ریاست میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ تاہم، مودی حکومت نے پہلے ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ حتمی فہرست میں جن کا نام نہیں ہوگا۔انہیں حراستی مرکز میں نہیں بھیجا جائے گا۔ ایسی صورتحال میں ان لوگوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ این آر سی میں ان تمام ہندوستانی شہریوں کے نام شامل ہوں گے جو 25 مارچ 1971 سے پہلے سے آسام میں مقیم ہیں۔


این آرسی فہرست کی اجرائی سے پہلے ہی آسام پولیس نے ریاست میں افواہوں اورالجھنوں کو پیدا کرنے والوں سے نمٹنے کے لئے ایکشن پلان بنایاہے۔ ریاستی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سماجی عناصر کی جانب سے جو افواہوں پھیلائی جارہی ہے ان پرتوجہ نہ دیں۔پولیس نے عوام کو الجھن کا شکار نہ کا مشورہ دیاہے۔ پولیس کا کہناہے کہ کسی بھی ناخوشگوارواقعات پرقابوپانے کے لیے ریاست کے حساس حصوں میں دفعہ 144 کو نافذ کردیاگیاہے۔ چیک پوسٹیں کا قیام بھی عمل میں لایا گیاہے۔لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ این آر سی کی حتمی فہرست کی اجرائی کے دوران دوران صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں اور امن قائم رکھیں۔


آسام : 31 جولائی 2018 کو ہوئی تھی این آرسی ڈرافٹ کی اجرائی

ہم آپ کو بتادیں کہ آسام میں اس سے پہلے این آرسی کا حتمی مسودہ 31 جولائی 2018 کو ریاست بھر کے تمام NRC خدمت مراکز یعنی این آرسی سیوا کندرم میں اشاعت عمل میں لائی گئی تھیں۔آسام کی آبادی 3.29 کروڑ ہیں جن میں سے 40.37 لاکھ درخواست گذاروں کواین آرسی ڈرافٹ میں شامل نہیں کیا گیا تھا، ان میں سے 36.2 لاکھ افراد کے ناموں کو شامل کیاگیاتھا۔26 جون کو، این آر سی اتھاریٹی نے این آرسی کی حتمی مسودے کی اجرائی کے لیے وقت مانگا تھا تاکہ مزید جس میں 1.02 لاکھ افرادکے ناموں کو شامل کیاجاسکیں۔تاہم سپریم کورٹ نے اس کی اجازت نہیں دی ۔

این آر سی کی حتمی فہرست میں اپنا نام کیسے چیک کریں؟

این آر سی کی حتمی فہرست میں اپنا نام چیک کرنے کے لیے آپ این آرسی سیوا کندرم جاکر اپنا نام چیک کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ این آرسی سینٹر کے ڈپٹی کمشنریا سرکل آفیسر / آفیسر کے دفترکا بھی دورہ کرکے تفصیلات حاصل کرسکتے ہیں۔آپ کو کام کے دنوں میں صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک این آر سی کی حتمی فہرست میں اپنا نام چیک کرواسکتے ہیں۔اس کے علاوہ آسام حکومت کے ویب سائٹس پربھی آپ آن لائن طریقہ کارسے بھی این آر سی کی حتمی فہرست کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔

این آر سی میں نام نہیں ہونے پر ’غیرملکی‘ اعلان نہیں کیا جائے گا: وزارت داخلہ

مرکزی وزارت داخلہ نے آسام کے لوگوں سے افواہوں پر توجہ نہیں دینے کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست کے قومی شہریت رجسٹر(این آر سی) میں نام نہیں ہونے پر کسی شخص کو سیدھے’غیرملکی‘ اعلان نہیں کیا جائے گا اور وہ ’فارن ٹریبونل‘ میں اپیل کرسکے گا۔وزارت داخلہ کی ترجمان نے کہاکہ ریاست کے لوگ افواہوں سے بچیں کیونکہ 31اگست کو حتمی شکل دیئے جانے پر این آر سی میں اگر کسی شخص کا نام نہیں ہے تو اسے سیدھے ’غیرملکی‘ قرار نہیں دیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کے پاس ’فارن ٹریبونل‘ میں اپیل دائرکرنے کا متبادل ہوگا۔




انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہاکہ حکومت نے ٹریبونل میں اپیل دائر کرنے کی مدت 60سے بڑھا کر 120دن کردی ہے۔ اس کیلئے ریاست کے اہم مقامات پر کافی تعداد میں ٹریبونل بنائے گئے ہیں۔ حکومت ضرورت مندوں کو ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی سے مفت قانونی مدد بھی دستیاب کرائے گی جس سے وہ اپیل دائر کرسکیں گے۔
ایک افسر نے بتایا کہ وزیر داخلہ امت شاہ اور ریاست کے وزیراعلی سروانند سونووال کے مابین گزشتہ 20 اگست کو یہاں ہوئی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی شخص کو فوراََ ’حراستی مراکز‘ میں نہیں بھیجا جائے گا۔ فارن ٹریبونل، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جیسے تمام قانونی متبادل ختم ہونے کے بعد ہی کسی کو ان مراکز میں بھیجے جانے کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
First published: Aug 30, 2019 03:15 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading