உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explainer Meerut: دیکھئے کس طرح سے سوشل میڈیا پر امیدوار کررہے ہیں انتخابی تشہیر

    سوشل میڈیا کے ذریعے انتخابی تشہیر

    سوشل میڈیا کے ذریعے انتخابی تشہیر

    اس مرتبہ بڑی بڑی ریلیوں اور عوامی جلسوں (Public meeting) ابھی تک دیکھنے کو نیہں ملی ہے کیونکہ جس طریقے سے کورونا بڑھ رہا ہے۔ اس کو دیکھتےہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے صرف ورچول تشہیر کے لئے ہی اجازت دی گئی ہے۔

    • Share this:
      میرٹھ: یو پی میں اسمبلی انتخابات کو لے کر سیاسی گرمی بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ اس مرتبہ بڑی بڑی ریلیوں اور عوامی جلسوں (Public meeting) ابھی تک دیکھنے کو نیہں ملی ہے کیونکہ جس طریقے سے کورونا بڑھ رہا ہے۔ اس کو دیکھتےہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے صرف ورچول تشہیر کے لئے ہی اجازت دی گئی ہے۔ اس کا سیاسی پارٹیوں کی جانب سے بھی بھرپور استعمال کیا جارہا ہے۔ سبھی سیاسی پارٹیوں کے امیدوار اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ کے ذریعے سے عوام سے روبرو ہو کر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ ایسے میں یہ بات تو طئے ہے کہ جن امیدواورں کے سوشل میڈیا پر فالوورس زیادہ ہیں اُن کے ورچول خطاب کو اتنا ہی زیادہ سنا جائے گا۔

      یہ ہے میرٹھ میں سیاست دانوں کا سوشل میڈیا اکاونٹ کا حال
      اگر لیڈروں کے سوشل میڈیا اکاونٹ کی بات کی جائے تو بھارتیہ جنتا پارٹی سے سردھنا ایم ایل اے اور امیدوار سنگیت سوم کے فیس بک پیج پر 10 لاکھ سے زیادہ، ٹوئٹر پر 8000 اور انسٹاگرام پر 9000 سے زیادہ فالوورس ہیں۔ تو وہیں اگر ہم ان کے سامنے الیکشن لڑ رہےسماج وادی پارٹی لیڈر اتول پردھان کی بات کریں تو ان کے فالوورس فیس بک پر ڈھائی لاکھ سے زیادہ، ٹوئٹر اکاونٹ پر یہ تعداد 95 ہزار سے زیادہ اور انسٹاگرام پر 22 ہزار سے زیادہ ہے۔ اسی طرح اگر ہم جنوبی ایم ایل اے سومیندر تومر کی بات کریں تو انکے فیس بک اکاونٹ پر 8 لاکھ فالوورس ہے۔ ٹوئٹر پر یہ تعداد 6 ہزار ہے۔ انسٹاگرام پر 3 ہزار ہے اور یوٹیوب پر 219 سبسکرائبرس ہیں۔

      اسی طریقے سے ایس پی لیڈر حاجی غلام محمد کی بات کریں تو فیس بک پیج پر ان کے 3 ہزار فالوورس ہیں۔ وہیں کانگریس ضلع صدر اونیش کاجلا کے فیس بک پیج پر 13 ہزار، ٹوئٹر پر 7 ہزار فالوورس ہیں۔ اُدھر ایس پی لیڈر اور ہستینا پور سے ایم ایل اے یوگیش ورما کے فیس بک پیج پر ڈھائی لاکھ سے زیادہ فالوورس ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: