ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

دادی و نانی سے قصے کہانیاں سننے اور ماں و بہنوں سے لوریاں سننے کی روایتوں کو پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت

مو بائل فون اور جدید انفارمیشن ٹکنالوجی اپنی جگہ لیکن بڑوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بچوں کو پرانی روایتوں ، زبان ، تہذیب اور ثقافت کی جانب راغب کریں۔

  • Share this:
دادی و نانی سے قصے کہانیاں سننے اور ماں و بہنوں سے لوریاں سننے کی روایتوں کو پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت
دادی و نانی سے قصے کہانیاں سننے کی روایتوں کو پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت

دادی اور نانیوں سے قصے کہانیاں سننے ، ماں اور بہنوں سے لوریاں اور پہلیاں سننے کی روایتوں کو پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ موبائل فون کے اس دور میں نئی نسل اپنی تہذیب اور ثقافت کونہ بھولے ۔ چنئی میں منعقدہ دوروزہ قومی سمینار میں ان خیالات کا اظہار کیا گیا۔ اردو میں لوک ادب کی روایات کے موضوع کے تحت چنئی کی مدراس یونیورسٹی میں دوروزہ قومی سمینار منعقد ہوا ۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک سے منعقدہ اس سمینار میں لوک ادب کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا گیا ۔ افتتاحی اجلاس میں یہ بات کہی گئی کہ اردو زبان میں لوک ادب کا بیش قیمتی سرمایہ موجود ہے ۔ پیدائش سے لے کرموت تک زندگی کے ہرمرحلہ ، ہرموڈ پر لوک گیت ، قصے اور کہانیاں زبان زد رہی ہیں ۔


ڈاکٹرعبد الحق اردو یونیورسٹی ، کرنول کے وائس چانسلر مظفر علی شہ میری نے کہاکہ دادی ، نانی اور گھر کے بڑے و بزرگ افراد بچوں کو کہانیاں، داستانیں، پہلیاں اور گیت سنایا کرتےتھے ۔ یہ وہ کہانیاں ہوا کرتی تھیں جس سے نہ صرف تفریح بلکہ بچوں کی شخصیت اور کردار بھی سنورتے تھے ۔ بچوں میں ادب ، اخلاق ، اچھے برے کی تمیز پیدا ہوتی تھی ۔ لیکن جدید ٹکنالوجی ، مصروف ترین زندگی کے باعث یہ روایتیں اب ختم ہورہی ہیں ۔ نئی نسل لوک ادب کے فائدوں سے محروم ہوتی جارہی ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے پروفیسر ان کنول نے کہا کہ والدین اور گھرکے بزرگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ وقت گذاریں ۔ مو بائل فون اور جدید انفارمیشن ٹکنالوجی اپنی جگہ لیکن بڑوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بچوں کو پرانی روایتوں ، زبان ، تہذیب اور ثقافت کی جانب راغب کریں۔


مدراس یونیورسٹی کے او آرآئی کے ڈائریکٹر سمپت کمار نے افتتاحی اجلاس کی صدارت کی ۔ اس سمینار میں تمل ناڈو، کرناٹک، آندھرپردیش اور چند دیگر ریاستوں میں موجود اردو لوک ادب پرمقالہ نگاروں نے روشنی ڈالی ۔ سمینار میں ایتھی راج کالج کے شعبہ انگریزی کی پروفیسر ڈاکٹر ایم لتا کماری نے کہا کہ اردو کے لوک ادب کو انگریزی اور دیگر زبانوں میں بھی منظرعام پر لانے کی ضرورت ہے ۔ تاکہ دیگر زبان کے لوگ اردو کے لوک ادب سے استفادہ کریں ۔


مدراس یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر قاضی حبیب احمد نے کہا کہ یونیورسٹی نے پہلی مرتبہ اردولوک ادب پرقومی سمینارکا انعقاد کیا ہے ۔ این سی پی یو ایل کے تعاون سے ہوئے اس سمینارکے ذریعہ مختلف علاقوں کے لوک ادب پر کافی مواد حاصل ہوا ہے۔ سیمنار میں پیش کئے گئے تمام مقالوں کو یونیورسٹی کتابی شکل دے گی ۔ اس موقع پر کل ہند مشاعرہ منعقد ہوا ۔ تمل ناڈو کے ممتاز شاعر وادیب علیم صبانویدی مشاعرہ کے مہمان اعزازی تھے جبکہ پروفیسر سید سجاد حسین کی صدارت اور پروفیسر تنویراحمد نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
First published: Feb 25, 2020 10:08 PM IST