உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حکیم اجمل خان کے افکار ونظریات کو ہندوستان کی ترقی کے لئے نسخہ کیمیا قرار دیا

    حکیم اجمل خان کے افکار ہندوستان کی ترقی کے لئے نسخہ کیمیا

    حکیم اجمل خان کے افکار ہندوستان کی ترقی کے لئے نسخہ کیمیا

    اویسینا ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کے مشترکہ بینر تلے بھوپال میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ حکیم اجمل خان دہلوی کی طبی وادبی لسانی خدمات کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور حکیم اجمل خان کے تعلیمی و ادبی خدمات کی معنویت پرروشنی ڈالتے ہوئے حکیم اجمل خان کے افکار کو ہندوستان کی ترقی کے لئے نسخہ کیمیا سے تعبیر کیا۔

    • Share this:
    بھوپال: اویسینا ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کے مشترکہ بینر تلے بھوپال میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ حکیم اجمل خان دہلوی کی طبی وادبی لسانی خدمات کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور حکیم اجمل خان کے تعلیمی و ادبی خدمات کی معنویت  پرروشنی ڈالتے ہوئے حکیم اجمل خان کے افکار کو ہندوستان کی ترقی کے لئے نسخہ کیمیا سے تعبیر کیا۔
    اویسینا ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی بھوپال اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مشترکہ بینر تلے بھوپال اندا پریہ درشنی اسکول میں منعقدہ سیمینار میں اردو کے ممتاز ادیبوں کے ساتھ ماہرین طب نے بھی شرکت کی۔ دانشوروں نے حکیم اجمل خان کے افکار و نظریات کے ساتھ حکیم اجمل خان کی طبی خدمات، ادبی و لسانی خدمات کے ساتھ ان کی شاعری پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔
    حکیم اجمل خان دہلوی کی طبی ادبی و لسانی خدمات کے عنوان سے منعقدہ سیمینار کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر یوسف خلیل حسینی نے سیمینار کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسیح الملک حکیم اجمل خان جیسی عبقری شخصیت روز روز نہیں پیدا ہوتی ہیں۔ حکیم اجمل خان نے اپنی ہمہ جہت شخیصت اور تعلیمی افکار سے ہندوستان کی سربلندی کا جو خاکہ تیار کیا تھا، اسی کی ہندوستان کو ضرورت ہے۔ حکیم اجمل خان نے تعلیم کے ساتھ ساتھ طب یونانی اور آیوروید کو لے کر جو کام کیا ہے وہ نہ صرف بے مثل ہے بلکہ وہ ایک ایسا نسخہ کیمیا ہے، جس پر عمل کرکے ہم ہندستان کو وشو گرو بنا سکتےہیں۔
    ڈاکٹر محمد اعظم نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اجمل خاں ہندوستان کے پہلے شخص ہیں، جنہوں نے طب یونانی اور آیوروید کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر انڈین سسٹم آف میڈیسین کے لئے جو کام کیا تھا، اس کو معنویت یہ کہتی ہے کہ اس کام کو آگے بڑھایا جائے۔حکیم اجمل خان نے اردو ادب کے ساتھ عربی ادب میں جو قیمتی شہ پارے چھوڑے ہیں، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پر نئے سرے سے کام کیا جائے تاکہ اس کی نئی معنویت دنیا کے سامنے آسکے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    کیا پھر سے نوجوت سنگھ سدھو کو ملے گی Congress کی کمان؟ پارٹی لیڈران کی میٹنگ میں کیا گیا مطالبہ
    سیمینار کے صدر اقبال مسعود نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکیم اجمل خان ایک مفکر، مدبر، مصلع قوم ہی نہیں منفرد لب و لہجہ کے شاعر اور قوم کے بناض تھے۔ وہ شاعر تھے اور شیدا تخلص استعمال کرتے تھے۔ ان کی شاعری عصری منعویت سے مزین ہے۔ مسیح الملک، حاذق الملک حکیم اجمل خان کو ہمیشہ یاد کیا جانا چاہئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جمہوریہ ہند میں ان سبھی لوگوں کو فراموش کردیا گیا، جنہوں نے آزادی کی جد وجہد میں اپنا خون شامل کیا تھا۔سوچئے ایک ایسا شخص جو کانگریس کا صدر تھا، جو مسلم لیگ کے بانیوں میں تھا، جس نے ہندو مہا سبھا کی سیشن کی صدارت کی تھی۔ ملک کی دو تین یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے جس کی رقم سے چلتے تھے، اس کو ہم نے اسی طرح سے فراموش کردیا ہے، جیسے وہ کچھ تھا ہی نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے اس اہم موضوع پر سمینار کا انعقاد کیا ہے۔ اس سمینار میں جو اہم باتیں نکل کر سامنے آئی ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔ بھوپال میں منعقدہ سیمینار میں یعقوب صدیقی، نفیسہ سلطانہ انا، ڈاکٹر مرضیہ عارف، ڈاکٹر شاہد علی وغیرہ نے بھی حکیم اجمل خان کی تعلیمی، سیاسی، سماجی، ادبی و لسانی خدمات کے ساتھ ان کی شاعری پر بھی اپنے مقالے پیش کئے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: