ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں سندھیا خیمہ کو زیادہ ترجیح دینے سے بی جے پی کے سینئر لیڈران ناراض

مدھیہ پردیش میں شیوراج کابینہ کے وزراء کو حلف برداری کے 11 دن بعد قلمدان وزارت تقسیم کرکے بھلے ہی بی جے پی قیادت خوش ہو رہی ہو، لیکن پارٹی کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ قلمدان وزارت میں سندھیا خیمہ کے وزراء کو زیادہ ترجیح دینے سے بی جے پی کے سینئرلیڈروں کی ناراضگی اب کھل کر باہر آنا شروع ہوگئی ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں سندھیا خیمہ کو زیادہ ترجیح دینے سے بی جے پی کے سینئر لیڈران ناراض
مدھیہ پردیش میں سندھیا خیمہ کو زیادہ ترجیح دینے سے بی جے پی کے سینئر لیڈران ناراض

بھوپال: مدھیہ پردیش میں شیوراج کابینہ کے وزراء کو حلف برداری کے 11 دن بعد قلمدان وزارت تقسیم کرکے بھلے ہی بی جے پی قیادت خوش ہو رہی ہو، لیکن پارٹی کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ قلمدان وزارت میں سندھیا خیمہ کے وزراء کو زیادہ ترجیح دینے سے بی جے پی کے سینئرلیڈروں کی ناراضگی اب کھل کر باہر آنا شروع ہوگئی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈروں کی اس طرح ناراضگی کا کھل کر اظہار کئے جانے پر بی جے پی نے ڈیمج کنٹرول پر کام کرنا شروع کردیا ہے۔ قلمدان وزارت پر اگر نظر ڈالیں تو سندھیا حامی وزراء کو آبپاشی، معدنیات، ریوینو، صحت، پنچایت و دیہی ترقی، توانائی، انڈسٹریل ڈیولپمنٹ، اسکول ایجوکیشن اورویمنس وچائلڈ ڈیولپمنٹ کی وزارت دی گئی ہے۔




بی جے پی کے سینئر لیڈر وسابق وزیر اجے وشنوئی نے اس پر اپنے سخت رعمل کا اظہار ٹوئٹ کرتے ہوئےکیا ہے۔ اجے وشنوئی لکھتے ہیں کہ اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے کا بہترین مظاہرہ کیا گیا ہے۔ جب سرکار نہ تو بنانا تھی اور نہ ہی گرانا تو پھر یہ کیوں کیا گیا۔ آپ بی جے پی کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں یہ بی جے پی کو بتانا ہوگا یا پھر ہمیں سنسکار کا الٹا پاٹھ پڑھانا ہوگا۔ واضح رہے کہ اجے وشنوئی کا شمار مدھیہ پردیش بی جے پی کے قدآور لیڈروں میں ہوتا ہے اور مہا کوشل کے ایک بڑے لیڈر میں وہ ہیں۔ شیو راج کابینہ کے 33 وزراء میں بھی مہا کوشل سے صرف ایک اور گوالیار چمبل سے 12 وزراء کو شامل کرنے پر بھی اجے وشنوئی نے اپنی ناراضگی کا کھل کر اظہار کیا تھا۔


شیوراج کابینہ کے وزراء کو حلف برداری کے 11 دن بعد قلمدان وزارت تقسیم کرکے بھلے ہی بی جے پی قیادت خوش ہو رہی ہو، لیکن پارٹی کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
شیوراج کابینہ کے وزراء کو حلف برداری کے 11 دن بعد قلمدان وزارت تقسیم کرکے بھلے ہی بی جے پی قیادت خوش ہو رہی ہو، لیکن پارٹی کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔


وزراء کو 11 دن بعد قلمدان تقسیم کئے جانے اور اقتدار میں بنے رہنے کی چاہت میں اپنی ہی پارٹی کے سینئر لیڈروں کو درکنار کرنے پر کانگریس نے بی جے پی پر طنزکیا ہے۔ سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر پی سی شرما کہتے ہیں ’بی جے پی میں سب کچھ پیسے کے لئے اور پیسے سےکیا جاتا ہے۔ مدھیہ پردیش میں جو کام اس نے کیا تھا اب وہی کام وہ راجسھتان میں کرنا چاہتی ہے، لیکن اب اس کے قول و عمل کے تضاد سے اس کے ہی لیڈروں کی ناراضگی سامنے آرہی ہے۔ پوری بی جے پی نے سندھیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ قلمدان وزارت کو لےکر بی جے پی کی جو ناراضگی سامنے آرہی ہے، اس کا نتیجہ اسمبلی ضمنی انتخابات میں سامنے آئے گا اور عوام بی جے پی کو اس کا جواب دیں گے۔
وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ کانگریس کی زبان نے ہی اسے آج اس پستی تک پہنچایا ہے۔ جس پارٹی کا ملک میں کبھی تنہا راج ہوا کرتا تھا، آج اس پارٹی کو پارلیمنٹ میں لیڈر آف اپوزیشن نہیں مل رہا ہے۔ یہ پارٹی ملک مخالفین کی زبان بولتی ہے۔کانگریس میں ٹیلنٹ کی کوئی قدر نہیں ہے۔ راجستھان کا سیاسی بحران بھی اسی کی مـثال ہے۔ بی جے پی میں کوئی ناراضگی نہیں ہے۔سبھی مل کر کام کر رہے ہیں، جہاں تک اجے وشنوئی کا سوال ہے، وہ پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں ان سے مل کر بات کریں گے۔
مدھیہ پردیش کانگریس کے میڈیا انچارج اور سابق وزیر جیتو پٹواری کہتے ہیں کہ مارچ سے شیوراج سنگھ کی حکومت قائم ہے اور اس حکومت میں کورونا اور کرائم دونوں کا راج قائم ہے۔ سرکار کو نہ کورونا سے مطلب ہے اور نہ ہی کرائم سے۔ حکومت کی نظر بس اقتدار میں بنے رہنے کی ہے، لیکن دھوکے سے بنائی گئی سرکار زیادہ دن رہنے والی نہیں ہے۔ جب بھی اسمبلی کی 25 سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے، اس سرکار کی دھوکہ بازی کا جواب عوام خود دیں گے۔ بی جے پی نے اپنے جن سینئر لیڈروں کو نظر انداز کرکے سندھیا حامیوں کو ترجیح دی ہے وہ بھی چپ بیٹھنے والے نہیں ہیں۔

وزراء کو 11 دن بعد قلمدان تقسیم کئے جانے اور اقتدار میں بنے رہنے کی چاہت میں اپنی ہی پارٹی کے سینئر لیڈروں کو درکنار کرنے پر کانگریس نے بی جے پی پر طنزکیا ہے۔
وزراء کو 11 دن بعد قلمدان تقسیم کئے جانے اور اقتدار میں بنے رہنے کی چاہت میں اپنی ہی پارٹی کے سینئر لیڈروں کو درکنار کرنے پر کانگریس نے بی جے پی پر طنزکیا ہے۔


مدھیہ پردیش میں کورونا مریضوں کی تعداد 18000 کے ہندسہ کو پارکرگئی ہے۔ مریضوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر اٹھارہ ہزار دوسو بیس (18220) ہوگئی ہے۔ صوبہ میں کورونا سے اب تک چھ سو  اٹھاون (658) لوگوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ بارہ ہزار سات سو چونتیس (12734) مریض صحتیاب ہوکر اسپتال سے گھر جا چکے ہیں۔ صوبہ میں کورونا کا قہر بھلے ہی جا رہی ہو، لیکن بی جے پی اور کانگریس نے اسمبلی ضمنی انتخابات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ورچوئل ریلیاں اور سیاسی دورہ شروع کردیا ہے۔ بی جے پی اپنوں کی ناراضگی کو دور کرتے ہوئے کانگریس کی کمزور کڑی پر جہاں نظر لگائے ہوئے ہیں وہیں کانگریس نے بھی بی جے پی کے ناراص لیڈروں سے رابطہ کرنا شروع کردیا ہے۔ اسمبلی ضمنی انتخابات کا فیصلہ صرف 25 سیٹوں کا فیصلہ نہیں ہوگا، بلکہ اس سے کانگریس اور بی جے پی کے اقتدار میں بنے رہنےکا بھی فیصلہ ہوگا۔ یہی وجہ ہےکہ دونوں ہی پارٹیاں اسے کرو یا مرو کے طور پر لے کرکام کر رہی ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 13, 2020 05:21 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading