உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Vinod Dua Passes Away: سینئر صحافی ونود دوا نہیں رہے، بیٹی نے سوشل میڈیا پر کی تصدیق

    Vinod Dua Passes Away: ملیکا دوا نے اپنے پوسٹ میں لکھا کہ میرے والد ونود دوا کی موت ہوگئی ہے، بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے۔ ملیکا نے بتایا کہ ونود دوا کی آخری رسومات لودھی شمشان گھاٹ میں ادا کی جائے گی۔

    Vinod Dua Passes Away: ملیکا دوا نے اپنے پوسٹ میں لکھا کہ میرے والد ونود دوا کی موت ہوگئی ہے، بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے۔ ملیکا نے بتایا کہ ونود دوا کی آخری رسومات لودھی شمشان گھاٹ میں ادا کی جائے گی۔

    Vinod Dua Passes Away: ملیکا دوا نے اپنے پوسٹ میں لکھا کہ میرے والد ونود دوا کی موت ہوگئی ہے، بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے۔ ملیکا نے بتایا کہ ونود دوا کی آخری رسومات لودھی شمشان گھاٹ میں ادا کی جائے گی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سینئر صحافی ونود دوا (Senior Journalist Vinod Dua) نہیں رہے۔ وہ لمبے وقت سے بیمار چل رہے تھے۔ ہفتہ کے روز ونود دوا کی بیٹی ملیکا دوا (Mallika dua) نے اپنے انسٹا گرام پوسٹ میں والد کی موت کی تصدیق کی۔ ملیکا نے اپنے پوسٹ میں لکھا کہ میرے والد ونود دوا کی موت ہوگئی ہے، بھگوان ان کی آتما کو شانتی دیں۔ ملیکا نے بتایا کہ ونود دوا کا آخری رسوم لودھی شمشان گھاٹ میں ادا کی جائے گی۔

      ونود دوا کی بیٹی نے لکھا جذباتی پوسٹ

      ونود دوا کی موت سے کچھ گھنٹے پہلے ہی ملیکا دوا نے اپنے انسٹا گرام پر ایک تصویر کو پوسٹ کرتے ہوئے ایک جذباتی پوسٹ لکھا تھا۔ ملیکا دوا نے لکھا، میرے والد اس وقت لڑ رہے ہیں اور کوئی اندازہ نہیں ہے کہ یہ ایک ہاری ہوئی لڑائی ہے یا کچھ اور۔ کسی بھی طرح سے جو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ ایک اچھی طرح سے جی گئی زندگی ایک غیر ضروری طور پر لمبے وقت تک خوف اور مایوسی میں جینے کے مقابلے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

      ونود دوا کی بیٹی ملیکا دوا (Mallika dua) نے اپنے انسٹا گرام پوسٹ میں والد کی موت کی تصدیق کی۔
      ونود دوا کی بیٹی ملیکا دوا (Mallika dua) نے اپنے انسٹا گرام پوسٹ میں والد کی موت کی تصدیق کی۔


      کون ہیں ونود دوا؟

      ونود دوا 67 سال کے تھے۔ ان کی پیدائش نئی دہلی میں ہوئی تھی۔ دور درشن اور این ڈی ٹی وی جیسے بڑے اداروں میں کام کرچکے ونود دوا کو 1996 میں رام ناتھ گوئنکا ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا تھا۔ وہ پہلے الیکٹرانک میڈیا کے صحافی تھے، جنہیں اس اعزاز سے سرفراز کیا گیا تھا۔ سال 2008 میں صحافت کے لئے انہیں پدم شری سے بھی سرفراز کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ کچھ دنوں پہلے بھی ونود دوا کی موت کی افواہ اڑی تھی، تب ان کی بیٹی نے اس کی تردید کی تھی۔
      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: