جموں وکشمیرمیں پابندی کے باوجود چل رہا تھا سید علی شاہ گیلانی کا انٹرنیٹ، بی ایس این ایل نے دوافسران کو کیا معطل

جموں وکشمیرمیں آرٹیکل 370 ہٹائےجانےکے بعد وادی میں امن وامان بنائےرکھنےکےلئے دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔ اسی کے ساتھ کسی افواہ سےبچنےکےلئےانٹرنیٹ اورلینڈ لائن فون خدمات بھی روک دی گئی تھی۔

Aug 19, 2019 04:08 PM IST | Updated on: Aug 19, 2019 05:27 PM IST
جموں وکشمیرمیں پابندی کے باوجود چل رہا تھا سید علی شاہ گیلانی کا انٹرنیٹ، بی ایس این ایل نے دوافسران کو کیا معطل

جموں وکشمیرمیں پابندی کے باوجود گیلانی کا انٹرنیٹ چل رہا تھا، جس کی جانچ تیز ہوگئی ہے۔۔

جموں وکشمیرمیں آرٹیکل 370 ہٹائے جانےکے بعد وادی میں امن وامان بنائے رکھنے کے لئےدفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔ اسی کےساتھ کسی افواہ سے بچنے کےلئےانٹرنیٹ اورلینڈ لائن فون خدمات بھی روک دی گئی تھی۔ حکومت کی ان تمام کوششوں کے باوجودعلیٰحدگی پسند لیڈرسیدعلی شاہ گیلانی کےگھرپرانٹرنیٹ چل رہا تھا۔ اس ٹوئٹ کے سامنے آنےکےبعد بی ایس این ایل کےدوافسران پرگاج گری ہےاورجانچ تیزکردی گئی ہے۔

جموں وکشمیرسےآرٹیکل 370 ہٹائےجانے سے ہندوستانی حکومت نے کسی بھی ناگہانی واقعات سے بچنےکےلئےکئی طرح کےانتظامات کئےتھے۔ اسی پابندی کےتحت جموں وکشمیرمیں انٹرنیٹ خدمات روک دی گئی تھی۔ ان سہولیات پرگزشتہ چاراگست سے روک لگا دی گئی تھی۔ حالانکہ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کی مطابق علیٰحدگی پسند لیڈرسید علی شاہ گیلانی کےگھرپرموجود لینڈ لائن اورانٹرنیٹ خدمات 8 دنوں تک چالوتھی۔ ذرائع کے مطابق افسران کواس بات کی خبرہی نہیں تھی کہ گیلانی کشمیرمیں انٹرنیٹ چلاتے ہیں اورانہوں نے اپنے اکاونٹ سے ہی کچھ ٹوئٹ بھی کئےتھے۔

Loading...

معاملہ سامنےآنےکے بعد اس بات کی جانچ شروع کردی گئی ہےکہ آخرگیلانی انٹرنیٹ اور لینڈ لائن سہولت حاصل کرنےکے مجازکیسےہوگئے۔ بی ایس این ایل نےاس معاملےمیں اب دوافسران پرایکشن لیا ہے۔ معاملہ کا پتہ چلنےکے بعد گیلانی کی خدمات بند کردی گئی تھیں۔

علیٰحدگی پسند لیڈرسیدعلی گیلانی ہمیشہ سے ہی ہندوستان مخالف پوسٹ کرتے رہے ہیں۔ سید گیلانی کولےکرلوگوں میں اس قدرناراضگی دیکھنے کومل رہی ہے کہ کچھ لوگوں نےتو وزیراعظم نریندرمودی اوروزیرداخلہ امت شاہ سےعلیٰحدگی پسند لیڈرسید علی شاہ گیلانی کو پاکستان بھیجنے تک کا مطالبہ کردیا ہے۔

Loading...