உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: یاسین ملک قصور وار قرار، جانئے کیسا رہا سیاسی پارٹیوں کا ردعمل اور کیا ہے سلامتی امور سے متعلق ماہرین کی رائے؟

    J&K News: یاسین ملک قصور وار قرار، جانئے کیسا رہا سیاسی پارٹیوں کا ردعمل اور کیا ہے سلامتی امور سے متعلق ماہرین کی رائے؟

    J&K News: یاسین ملک قصور وار قرار، جانئے کیسا رہا سیاسی پارٹیوں کا ردعمل اور کیا ہے سلامتی امور سے متعلق ماہرین کی رائے؟

    Jammu and Kashmir : کشمیری علیحدگی پسند لیڈر یاسین ملک کو ٹیرر فنڈنگ معاملے میں قصور وار قرار دیا گیا ہے۔ جموں وکشمیر کی مختلف سیاسی پارٹیوں نے یاسین ملک کو قصوروار قرار دئیے جانے پر اپنارد عمل ظاہر کیاہے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : کشمیری علیحدگی پسند لیڈر یاسین ملک کو ٹیرر فنڈنگ معاملے میں قصور وار قرار دیا گیا ہے۔19 مئی کو دہلی کی خصوصی این آئی اے عدالت نے یاسین ملک کو قصوروار قرار دیا۔ 2017 کے ٹیرر فنڈنگ والے اس معاملے کے تعلق سے یاسین ملک نے تقریباً ایک ہفتہ قبل عدالت میں یہ قبول کئے جانے کے بعد کہ وہ اس معاملے میں ملوث ہے خصوصی عدالت نے آج اسے قصوروار قرار دیا۔ سزا طے کئے جانے  کے بارے میں 25 مئی کو معاملے پر مزید کارروائی ہوگی۔ جموں وکشمیر کی مختلف سیاسی پارٹیوں نے یاسین ملک کو قصوروار قرار دئیے جانے پر اپنارد عمل ظاہر کیاہے۔

    بی جے پی کے جموں وکشمیر یونٹ کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ قابل ستائش ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر دیویندر سنگھ رانا نے نیوز18 اردو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ "یہ فیصلہ قابل ستائش ہے ہمیں امید ہے کہ یاسین ملک کو ایک قاتل کی سزا ملے گی جس سے ان دیگر لوگوں کو بھی عبرت ہوگی جو ملک دشمن ذہنیت رکھتے ہیں۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ہندوستان کا عدالتی نظام پختہ ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ آج تک جتنے بھی سرکاریں رہی ہیں ان کی نیت صاف نہیں تھی جس کی وجہ سے یہ دیر ہوئی ہے"۔

     

    یہ بھی پڑھئے : ایل او سی سے متصل جنگل میں لگی آگ پر قابو ، کئی بارودی سرنگوں میں ہوئے دھماکے


    نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے فیصلے پر محتاط انداز میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ " عدالتوں کا کام فیصلہ سنانا ہوتا ہے ، عدالت نےاس معاملے میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اب یہ یاسین ملک کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اس فیصلے کے خلاف اوپری عدالت کا رخ کریں گے یا نہیں"۔ وہیں سلامتی امور سے متعلق ماہرین کی رائے ہے کہ اس فیصلے سے قوم دشمن عناصر اور جموں وکشمیر میں دہشت گردی کو ہوا دینے میں ملوث افراد کی کارستانیوں پر قدغن لگانے میں کافی مدد ملے گی۔

    سرکردہ دفاعی ماہر اور جموں وکشمیر کے سابق ڈی جی پی ایس پی وید کا کہنا ہے کہ یاسین ملک کو ٹیرر فنڈنگ معاملے میں قصور وار قرار دئے جانے سے یہ پیغام عام لوگوں تک پہنچ چکا ہے کہ جو بھی فرد ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث ہوگا وہ قانون کے شکنجے سے زیادہ دیر تک نہیں پچ پائے گا۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ایس پی وید نے کہا کہ " میں سمجھتا ہوں کہ یاسین ملک کو قصوروار دیے جانے سے عام لوگوں کو یہ واضح پیغام مل چکا ہے کہ ملک دشمن حرکتیں برداشت نہیں کی جائیں گی اور جو بھی شخص قوم دشمن حرکات کا مرتکب پایا جائے گا ، اس کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ میرا یہ ماننا ہے یاسین ملک کے ساتھ ساتھ دیگر ان افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جانی چاہئے، جنہوں نے دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے لیے سر عام رقومات حاصل کیں ان عناصر نے کشمیری نوجوانوں کو ورغلا کر ان ہاتھوں میں بندوقیں تھما دیں اور کچھ نوجوانوں کو پیسے کا لالچ دیکر انہیں پتھر باز بنایا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: بارہمولہ گرنیڈ حملہ میں جاں بحق رنجیت سنگھ کی آخری رسومات ادا


    انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں آج  ان والدین کو تھوڑی سی راحت ضرور ملی ہوگی جن کے بچے یاسین ملک جیسے افراد کی جانب سے بندوق کا راستہ اختیار کرکے حفاظتی عملے کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے اور جن کے بچوں کو پتھر بازی میں شامل کرکے انہیں مجرم بنا دیا۔ کشمیر میں ایسے ہزاروں خاندان ہیں جنہوں نے یاسین ملک جیسے علیحدگی افراد کی ایماء پر اپنے نوجوان بچوں کو کھو دیا"۔ ایس پی وید نے کہا کہ ماضی میں مختلف سرکاروں کی جانب سے سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی تاہم موجودہ سرکار نے مضبوط سیاسی ارادے کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

    انہوں نے کہا،" میں سمجھتا ہوں کہ انیس سو نواسی کے اواخر اور انیس سو نوے کے اوائل میں پیش آئے تمام معاملات کی از سر نو جانچ کی جائے ۔ کشمیر میں ملی ٹینسی کی شروعات ہونے کے بعد کشمیری پنڈتوں کی نسل کشی کرنے کے تمام معاملات کی از سر نو تحقیقات کی جائے ۔ تاکہ دہشت گردی کے واقعات میں مارے گئے افراد کے لواحقین کو انصاف ملے" ۔

    واضح رہے کہ ٹیرر فنڈنگ معاملے میں این آئی اے اور اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے دیگر کئی افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور اس سلسلے میں کئی افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: