تلنگانہ حکومت کوجھٹکا: تاریخی ایرم منزل کے انہدام پرہائی کورٹ نے لگائی روک

تلنگانہ ہائی کورٹ نے حیدرآباد میں واقع تاریخی ایرم منزل کے انہدام پرروک لگادی ہے۔امرم منزل کے انہدام پرروک لگانے کی اپیل کرتے ہوئے داخل کی گئی عرضداشت پرہائی کورٹ نے نے سماعت کی ۔

Sep 16, 2019 05:43 PM IST | Updated on: Sep 16, 2019 05:43 PM IST
تلنگانہ حکومت کوجھٹکا: تاریخی ایرم منزل کے انہدام پرہائی کورٹ نے لگائی روک

تلنگانہ ہائی کورٹ۔(تصویر:فائل)۔

تلنگانہ ہائی کورٹ نے حیدرآباد میں واقع تاریخی ایرم منزل کے انہدام پرروک لگادی ہے۔امرم منزل کے انہدام پرروک لگانے کی اپیل کرتے ہوئے داخل کی گئی عرضداشت پرہائی کورٹ نے نے سماعت کی ۔ سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے تلنگانہ کابینہ کے فیصلے کو مستردکردیاہے۔ عدالت نے کہا کہ تلنگانہ کابینہ کا فیصلہ قانون تقاضوں کو پورا نہیں کررہاہے۔ ہائی کورٹ نے اس سلسلہ میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ موجودہ اسمبلی اورایرم منزل کو منہدم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

عدالت نے کہا کہ تاریخی ایرم منزل کے انہدام پرکوئی اقدامات نہیں کیے جانے چاہیے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں برسراقتدار ٹی آرایس حکومت حیدرآباد میں واقع تاریخی عمارت ایرم منزل کومنہدم کرکے وہاں ریاستی سکریٹریٹ اوراسمبلی کے لیے نئی عمارتیں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔اس سلسلہ میں تلنگانہ کابینہ میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی تھی جس کو آج ہائی کورٹ نے مسترد کردیاہے۔

Loading...

تاریخی ارم منزل۔(تصویر: سوشل میڈیا)۔ تاریخی ارم منزل۔(تصویر: سوشل میڈیا)۔

تلنگانہ کےوزیراعلیٰ کے چندر شیکھرراؤ نے اپوزیشن اورعوام کی ناراضگی کے باوجود نئے سکریٹریٹ اوراسمبلی عمارت کی تعمیر کا سنگ بنیاد بھی رکھاتھا۔ نئی اسمبلی کی عمارت پر100 کروڑ اورسکریٹریٹ کی تعمیرپر400سوکڑوڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایاگیاہے۔اپوزیشن نے نئے عمارات کی تعمیر کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی حکومت سے اپیل کی ہے۔

گزشتہ دنوں،حیدرآباد کی تاریخی عمارتوں میں ایک سنگ میل سمجھے جانے والی ارم منزل کی جگہ پر تلنگانہ اسمبلی کی نئی عمارت کیلئے وزیراعلیٰ کے چندرشیکھرراؤ نے بومی پوجن کیا تھا۔ارم منزل کے مالک نواب فخر الملک کے وارثین نے حکومت کے فیصلے پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو واپس لینے کی اپیل کی تھی۔

تاریخی ارم منزل۔(تصویر: سوشل میڈیا)۔ تاریخی ارم منزل۔(تصویر: سوشل میڈیا)۔

حیدرآباد کے آصفجاہی دور میں تعمیر کردہ عالیشان عمارتوں میں ارم منزل کو ایک انفرادی مقام حاصل ہے یہ عمارت سابقہ ریاست حیدرآباد کے ایک امیر نواب فخر الملک نے1870 میں تعمیر کروائی تھی۔ وسیع و عریض رقبہ پر پھیلے ہوئے اس عظیم الشان محل میں کْل150 کمرے اور اسکے کے عقب میں باغات پولو اور گولف کے میدانوں کی بھی تعمیر کی گئی تھی۔

سقوط حیدرآباد کے بعد اسکے وارثین کو معاوضہ دے کرریاستی حکومت نے اس پیلس کو اپنی تحویل میں لے لئے تھا۔ حال تک اس محل میں ریاستی حکومت سرکاری محکمہ روڈس اینڈ بلڈ نگس کے تصرف میں تھی ۔لیکن اچانک حکومت تلنگانہ نے ارم منزل کوڈھا کر اسکی جگہ پر سکرٹیریٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کا فیصلہ کیاتھا۔ اپنے ابا واجداد کی نشانی کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے منصوبہ سے ناراض نواب فخر الملک کے وارثین نے اس پر اپنے غم و احتجاج کا اظہارکررہے ہیں۔نواب فخرالملک وارثین کا مطالبہ ہے کہ اسمبلی کیلئے حیدرآباد میں ریاستی حکومت کو کئی موزوں مقامات دستیاب ہو جا ئیں گے۔ لہذا چیف منسٹر تلنگانہ چندر شیکھر راؤ اس پیلس کی جگہ پراسمبلی کی عمارت کی تعمیرکا ارادہ ترک کردیں۔

تاریخی ارم منزل۔(تصویر: سوشل میڈیا)۔ تاریخی ارم منزل۔(تصویر: سوشل میڈیا)۔

نئی اسمبلی کی عمارت جس میں اسمبلی اور کونسل ہوں گے،100کروڑروپئے کے صرفہ سے تعمیر کی جائے گی۔ یہ عمارت ایرم منزل میں تعمیرکرنے کا منصوبہ ہے۔نئی اسمبلی کی عمارت ریڈ منشن پیلیس اور آر اینڈ بی آفس کے درمیان کی جگہ پر ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہےکہ اسمبلی کی موجودہ عمارت کا ہیرٹیج عمارت کے طورپر تحفظ کیاجائے گا۔ کے سی آرعلم نجوم پر کو مانتے ہیں۔ کےسی آر کے مطابق واستو کےلحاظ سے موجودہ عمارات مناسب نہیں ہیں۔

Loading...