உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کام کی بات : مشت زنی ہر مرتبہ کیوں احساس جرم سے ذہن کو بھردیتا ہے؟

    مذہبی رہنما اپنی تقریروں اور کتابوں میں کہتے ہیں کہ ایک بوند منی کا مطلب 100 بوند خون اور ایک بوند خون کا مطلب بہت ساری تغذیہ بخش غذائیں۔

    مذہبی رہنما اپنی تقریروں اور کتابوں میں کہتے ہیں کہ ایک بوند منی کا مطلب 100 بوند خون اور ایک بوند خون کا مطلب بہت ساری تغذیہ بخش غذائیں۔

    مذہبی رہنما اپنی تقریروں اور کتابوں میں کہتے ہیں کہ ایک بوند منی کا مطلب 100 بوند خون اور ایک بوند خون کا مطلب بہت ساری تغذیہ بخش غذائیں۔

    • Share this:

      مشت زنی کوئی بیماری نہیں ہے ۔ یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے۔ یہ صرف ایک عادت ہے ، لیکن ہمارے یہاں سیکس ایجوکیشن کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے ، اسکول اور کالج میں بھی اس بارے میں بچے اور بچیوں کو کوئی تعلیم نہیں دی جاتی ہے ، اس لئے ہمیں غلط اور صحیح کا علم نہیں ہوتا ہے۔
      علاوہ ازیں مذہبی رہنما اپنی کتابوں میں منی کو مرد کی شان بتاتے ہیں ۔ اب اس طرح کی ثقافتی پرورش کے بعد اور ایسی کتابوں کے پڑھنے اور سننے کے بعد جب بھی کوئی مشت زنی کرتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک ہی خیال آتا ہے کہ میں نے اپنی ساری توانائی برباد کردی ہے۔ اس کے ذہن میں احساس جرم پیدا ہونے لگتا ہے۔
      سوال : مشت زنی کرنے کے بعد ہر مرتبہ ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ غلط کام کیا ہے؟
      ڈاکٹر پارس شاہ
      مشت زنی کوئی بیماری نہیں ہے ۔ یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے۔ یہ صرف ایک عادت ہے ، لیکن ہمارے یہاں سیکس ایجوکیشن کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے ، اسکول اور کالج میں بھی اس بارے میں بچے اور بچیوں کو کوئی تعلیم نہیں دی جاتی ہے ، اس لئے ہمیں غلط اور صحیح کا علم نہیں ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں مذہبی رہنما اپنی تقریروں اور کتابوں میں کہتے ہیں کہ ایک بوند منی کا مطلب 100 بوند خون اور ایک بوند خون کا مطلب بہت ساری تغذیہ بخش غذائیں۔
      مذہبی رہنما اپنی کتابوں میں منی کو مرد کی شان بتاتے ہیں ۔ اب اس طرح کی ثقافتی پرورش کے بعد اور ایسی کتابوں کے پڑھنے اور سننے کے بعد جب بھی کوئی مشت زنی کرتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک ہی خیال آتا ہے کہ میں نے اپنی ساری توانائی برباد کردی ہے۔ اس کے ذہن میں احساس جرم پیدا ہونے لگتا ہے۔


      kam-ki-baat
      ساتھ ہی ساتھ سیکس ہمارے سماج میں ایک ممنوعہ موضوع بھی ہے۔ نہ اس کے بارے میں صحیح تعلیم دی جاتی ہے ، نہ ہی بات کی جاتی ہے اور نہ ہی اس سے وابستہ شکوک و شبہات اور سوالات کا کہیں سے کوئی حل ملتا ہے۔ ایسے میں ذہن میں احساس جرم پیدا ہونا اور منفی قسم کے خیالات آنا انتہائی فطری بات ہے۔
      جبکہ اس کے پیچھے کی سائنسی حقیقت یہ ہے کہ منی ہمارے جسم میں 24 گھنٹے بنتی رہتی ہے، آپ جاگ رہے ہوں ، سو رہے ہوں یا پھر اس وقت جب آپ اس مضمون کو پڑھ رہے ہیں ، اس وقت بھی آپ میں منی بننے کا عمل جاری ہے۔ اگر آپ مشت زنی نہیں کریں گے یا پھر جسمانی تعلقات نہیں بنائیں گے تو منی خود بخود نیند میں نکل جائے گی ۔ یہ ایک عام عمل ہے۔ نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی جسم میں خود بخود ہارمونل تبدیلیاں ہوتی ہیں۔
      اس تبدیلی کا نتیجہ ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں مختلف صنف کی طرف راغب ہونے لگتے ہیں ، جسمانی تبدیلیوں کو لے کر تجسس پیدا ہوتا ہے۔ جسم میں ہورہی تبدیلیوں کی اپنی فطری وجوہات ہیں ، اسے سائنسی طریقہ سے سمجھنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کتابوں پر یقین کرکے ذہن میں احساس جرم پیدا کرنے کی۔ مشت زنی بہت آرام دہ اور فطری عمل ہے ، اس لئے اس کو لے فکرمند یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ذہن میں کسی قسم کا احساس جرم پیدا کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں ہے ، اس لئے اس کا علاج بھی نہیں ہے۔
      ۔(ڈاکٹر پارس شاہ ساندھیہ ملٹی اسپشلیٹی ہاسپیٹل میں چیف کنسلٹنٹ سیکسولاجسٹ ہیں)۔

      First published: