ہندوستان کی 90 فی صد خواتین اور لڑکیاں اپنی زندگی میں جنسی تشدد کا شکار: سروے رپورٹ

نئی دہلی۔ ملک کی 90 فیصد خواتین اور لڑکیاں اپنی زندگی میں کسی نہ کسی طور پر جنسی ہراسانی اور چھیڑ چھاڑ کا شکار ہوتی ہیں۔

Oct 25, 2016 02:23 PM IST | Updated on: Oct 25, 2016 02:23 PM IST
ہندوستان کی 90 فی صد خواتین اور لڑکیاں اپنی زندگی میں جنسی تشدد کا شکار: سروے رپورٹ

نئی دہلی۔  ملک کی 90 فیصد خواتین اور لڑکیاں اپنی زندگی میں کسی نہ کسی طور پر جنسی ہراسانی اور چھیڑ چھاڑ کا شکار ہوتی ہیں لیکن وہ اس کی شکایت پولیس سے نہیں کرتی ہیں اور اس کے خلاف آواز بھی نہیں اٹھاتی ہیں۔ خواتین کے تحفظ کے بارے میں ’کیئر انڈیا‘ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ سروے کے مطابق 78 فیصد خواتین کو پولیس ہیلپ لائن کی معلومات بھی نہیں ہوتی ہے۔ عوامی مقام پر خواتین کے ساتھ ہو رہے جنسی تشدد کے گواہ 88 فیصد مرد بھی ہوتے ہیں لیکن وہ چپ چاپ اسے دیکھتے رہتے ہیں۔65 فیصد مردوں کو خواتین ہیلپ لائن کی معلومات بھی نہیں ہوتی ہے۔

سروے کے مطابق 37 فیصد شادی شدہ خواتین اپنے شوہروں کی طرف سے جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ سروے میں شامل 42 فیصد خواتین کا خیال ہے کہ مرد، خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو تفریح ​​کا ذریعہ مانتے ہیں اور 58 فیصد خواتین کا خیال ہے کہ مرد ہمیشہ عورتوں کے ساتھ جنسی تعلق بنانے کو تیار رہتے ہیں۔ سروے کے مطابق 53 فیصد مرد خواتین کو پھبتیاں یا فقرے کس کر جنسی تشدد کا شکار بناتے ہیں جبکہ 51 فیصد مرد خواتین کو گھیرتے ہیں۔ سروے میں شامل 52 فیصد طالبات کو مردوں نے زبردستی چھونے، پکڑنے یا مروڑنے، کاٹنے کی حرکتیں کی۔ چھیڑ چھاڑ کے 52 فیصد واقعات بس اسٹینڈ پر ہوئے جبکہ 32 فیصد واقعات اسکول یا کالج کے راستے میں اور 23 فیصد واقعات تو اسکول اور کالج کے احاطے میں ہوئے۔ 44.6 فیصد خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے لئے کوئی وقت محفوظ نہیں ہے جبکہ 46.9 فیصد کا خیال ہے کہ اندھیرا ہونے پر ان کے لئے ماحول غیر محفوظ ہو جاتا ہے جبکہ 82.5 فیصد کا خیال ہے کہ شام کو عوامی جگہ محفوظ نہیں ہوتے۔چھیڑ چھاڑ کے 48 فیصد واقعات شام کو ہوتے ہیں جبکہ 47 فیصد واقعات دن میں ہوتے ہیں۔ خواتین کا خیال ہے کہ 83.5 فیصد بس اسٹاپ ان کے لئے محفوظ نہیں، اسی طرح 82.2 فیصد ریلوے اسٹیشن بھی محفوظ نہیں اور 82.2 فیصد کھلے ہوئے بیت الخلاء محفوظ نہیں ہیں۔

Loading...

Loading...