ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاہین باغ کے مظاہرین نے سی اے اے پر بات چیت کیلئے قبول کی امت شاہ کی تجویز ، کیا یہ بڑا اعلان

مظاہرین کا کہنا ہے کہ امت شاہ جی نے پورے ملک کو شہریت ترمیمی قانون سے وابستہ معاملات پر گفتگو کیلئے آنے اور ان سے ملنے کی دعوت دی ہے ، اس لئے ہم ان سے ملنے کیلئے جارہے ہیں ، ہمارا کو کوئی نمائندہ وفد نہیں ہے ، کوئی بھی جس کو سی اے اے سے وابستہ کوئی شکایت ہے ، وہ جائے گا ۔

  • Share this:
شاہین باغ کے مظاہرین نے سی اے اے پر بات چیت کیلئے قبول کی امت شاہ کی تجویز ، کیا یہ بڑا اعلان
شاہین باغ میں مظاہرہ کی فائل فوٹو ۔ تصویر : رائٹر ۔

شاہین باغ میں موجود مظاہرین نے ہفتہ کو کہا کہ وہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ بات چیت کے خواہشمند ہیں اور شہریت ترمیمی قانون پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں ۔ مظاہرین ، جن میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں ، وہ جنوبی دہلی کے اس علاقہ میں دسمبر سے ہی احتجاج کررہے ہیں ۔ مظاہرین کا یہ بیان وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان کے بعد آیا ہے ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کوئی بھی جو شہریت ترمیمی قانون سے وابستہ معاملہ پر بات چیت کرنا چاہتا ہے ، وہ ان کے آفس میں آکر ان سے بات کرسکتا ہے ۔ جمعرات کو قوامی راجدھانی دہلی میں منعقدہ ایک پروگرام میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم اس شخص کو تین دن کے اندر وقت دے دیں گے ۔


ہفتہ کو مظاہرین نے کہا کہ ہم بات چیت کیلئے امت شاہ کی تجویز کو قبول کرتے ہیں ۔ ہم ان سے کل دو بجے دوپہر میں ملنے کیلئے تیار ہیں ۔ ہم کوئی ملنے کیلئے وقت نہیں مانگ رہے ہیں ، مظاہرین نے یہ بھی کہا کہ اب یہ امت شاہ پر ہے کہ وہ ان سے ملنا چاہتے ہیں یا نہیں ۔ وہیں انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق مظاہرین مطالبات کا ایک مسودہ لے کر شاہ کے گھر تک پیدل مارچ کرنے والے ہیں ۔



نیوز ایجنسی اے این آئی کو دئے ایک بیان کے مطابق مظاہرین کا کہنا ہے کہ امت شاہ جی نے پورے ملک کو شہریت ترمیمی قانون سے وابستہ معاملات پر گفتگو کیلئے آنے اور ان سے ملنے کی دعوت دی ہے ، اس لئے ہم ان سے ملنے کیلئے جارہے ہیں ، ہمارا کو کوئی نمائندہ وفد نہیں ہے ، کوئی بھی جس کو سی اے اے سے وابستہ کوئی شکایت ہے ، وہ جائے گا ۔

خیال رہے کہ جمعرات کو ایک پروگرام کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے پاکستان  ، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے غیر مسلم پناہ گزینوں کو ہندوستان کی شہریت دینے والے سی اے اے کا مضبوطی سے دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ نئے قانون میں کوئی ایسا بندوبست نہیں ہے ، جس کے ذریعہ مسلمانوں کی شہریت چھینی جاسکے ۔
First published: Feb 15, 2020 06:34 PM IST