ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاہین باغ احتجاج : 70 دنوں سے بند کالندی کنج سے نوئیڈا جانے والی سڑک کھلی ، مظاہرین نے کیا یہ بڑا مطالبہ

جامعہ ، ابوالفضل اور كالندی کنج ہوکر نوئیڈا جانے والی سڑک کو آج شام پانچ بجے کے بعد کھول دیا گیا ۔ كالندی کنج سے سریتا وہار کی جانب جانے والی سڑک پر دھرنا اور مظاہرہ جاری ہے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 22, 2020 08:53 PM IST
  • Share this:
شاہین باغ احتجاج : 70 دنوں سے بند کالندی کنج سے نوئیڈا جانے والی سڑک کھلی ، مظاہرین نے کیا یہ بڑا مطالبہ
70 دنوں سے بند کالندی کنج سے نوئیڈا جانے والی سڑک کھلی

شہریت ترمیمی قانون (سی اےاے) کے خلاف 70 دنوں سے بند كالندی کنج سے نوئیڈا جانے والی سڑک کو اب کھول دیا گیا ہے ۔ اگرچہ دھرنا یہاں جاری ہے۔ جامعہ ، ابوالفضل اور كالندی کنج ہوکر نوئیڈا جانے والی سڑک کو آج شام پانچ بجے کے بعد کھول دیا گیا ۔ كالندی کنج سے سریتا وہار کی جانب جانے والی سڑک پر دھرنا اور مظاہرہ جاری ہے ۔ مظاہرین نے کہا کہ گذشتہ چار دن سے مصالحت کاروں کے ساتھ بات چیت میں انہوں نے یہی کہا کہ پولیس کی جانب سی بیریکیڈ نگ کی گئی ہے ۔ جمعہ کو چند گھنٹوں کے لیے اس سڑک کو کھولا گیا تھا اور اس کے بعد بند کر دیا گیا تھا ۔


اس بابت مصالحت کارسینئر وکیل ہیگڑے نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس نے بھی دوبارہ سڑک کو بند کیا ہے ، اسے سپریم کورٹ کو جواب دینا ہو گا ۔ مظاہرین کے مطابق اسی کے پیش نظرپولیس نے دوبارہ اس راستے کو کھول دیا ہے ۔ اس کے کھلنے کی وجہ سے متھرا روڈ پر ٹریفک کا بوجھ تھوڑا کم ہو سکتا ہے اور عوام کو جام سے راحت بھی ملنے کی امید ہے۔  غور طلب ہے کہ سی اے اے کی مخالفت میں جب كالندی کنج کو متھرا روڈ سے جوڑنے والی سڑک پر دھرنا مظاہرہ شروع کیا گیا تھا ، تو اس وقت پولیس نے كالندی کنج سے نوئیڈا جانے والی سڑک کو بھی سیکورٹی وجوہات سے بند کر دیا تھا۔


آج پھر شاہین باغ پہنچی سادھنا رام چندرن


سپریم کورٹ کی مقرر کردہ مذاکرات کار سادھنا رام چندرن آج صبح ساڑھے دس بجے بغیر اطلاع کے پہنچ گئیں ۔ اس وقت کم تعداد میں مظاہرین تھے اور سب خواتین ترو تازہ ہونے کے لئے گھر گئی ہوئی تھیں اور اطلاع ہونے پر خواتین مظاہرہ کے مقام پر پہنچ گئیں۔ خاتون مظاہرین نے تحفظ کے تئیں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحفظ کا ذمہ لیا جائے تو ایک طرف کاراستہ کھولا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کی مقرر کردہ مذاکرات کار سادھنا رام چندرن آج صبح ساڑھے دس بجے بغیر اطلاع کے پہنچ گئیں ۔
سپریم کورٹ کی مقرر کردہ مذاکرات کار سادھنا رام چندرن آج صبح ساڑھے دس بجے بغیر اطلاع کے پہنچ گئیں ۔


مظاہرین نے کئے کئی مطالبات

مظاہرین نے سپریم کورٹ کے مذاکرات کار کے سامنے چند مطالبات بھی پیش کئے ، جن میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کو مسترد کیا جائے، جامعہ ملیہ اور شاہین باغ کے لوگوں کے خلاف جو معاملات درج کئے ہیں کہ اسے واپس لیا جائے ، تحفظ کے لئے مظاہرہ گاہ کو اسٹیل سیٹ گھیرا جائے ، تحفظ کی ذمہ داری دہلی پولیس کو نہ دی جائے دیگر ایجنسی کو دی جائے کیوں کہ دہلی پولیس پر اعتماد نہیں ہے اور اگر سیکورٹی کے دوران کوئی انہونی ہوجائے تو متعلقہ افسران کو فوراً برخاست کیا جائے اور سپریم کورٹ اس پر ہدایت جاری کرے ، گزشتہ دو ماہ کے دوران جو واقعات پیش آئے ہیں سپریم کورٹ کی نگرانی میں اس کی جانچ کی جائے ، جن وزراء اور لیڈروں نے شاہین باغ خاتون مظاہرین کے خلاف نازیبا تبصرے کئے ہیں سپریم کورٹ اس پر سماعت کرکے مناسب کارروائی کرے ، شامل ہیں ۔

قابل ذکر ہے کہ سادھنا رام چندرن نے آج پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم نہیں چاہتے کہ آپ یہاں سے چلے جائیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ مظاہرہ بھی جاری رہے اور راستہ بھی کھل جائے تاکہ دوسروں کو کوئی تکلیف نہ ہو ، اس لئے ہم نے کل بند روڈ کا جائزہ لیا تھا ۔ ساری سڑکیں آپ نے بند نہیں کی ہیں اس میں کچھ سچائی بھی ہے اور ہم صورت حال سے عدالت عظمی کو آگاہ کریں گے۔
First published: Feb 22, 2020 08:51 PM IST