قاتلوں نے نہیں، پولیس نے گڈھے میں دبا دی تھی شینا کی لاش

نئی دہلی۔ شینا قتل کی تحقیقات میں پولیس نے قدم قدم پر لاپرواہی برتی، کیونکہ اگر پولیس تحقیقات کو صحیح سمت میں آگے بڑھاتی تو اس قتل کے بہت سے راز سے تین سال پہلے ہی پردہ اٹھ جاتا۔

Aug 30, 2015 09:03 AM IST | Updated on: Aug 30, 2015 09:03 AM IST
قاتلوں نے نہیں، پولیس نے گڈھے میں دبا دی تھی شینا کی لاش

نئی دہلی۔  شینا قتل کی تحقیقات میں پولیس نے قدم قدم پر لاپرواہی برتی، کیونکہ اگر پولیس تحقیقات کو صحیح سمت میں آگے بڑھاتی تو اس قتل کے بہت سے راز سے تین سال پہلے ہی پردہ اٹھ جاتا۔ شینا کی لاش تین سال پہلے ہی پولیس برآمد کر چکی تھی، لیکن ایک انجان لاش کی جانچ پڑتال کرنے کے بجائے پولیس نے اس کو گڈھے میں دبا دیا۔ پولیس نے اس حد تک لاپرواہی برتی کہ لاش کے جس نمونے کو جانچ کے لئے ممبئی کے جے جے ہسپتال بھیجا گیا تھا، دوبارہ اس کی جانکاری ہی نہیں لی گئی۔

دراصل شینا قتل کی گتھی گوہاٹی، کولکتہ اور ممبئی کے درمیان کئی دنوں تک الجھی رہی، لیکن اس سنسنی خیز قتل کا سب سے بڑا سرا غ ممبئی سے تقریبا ڈیڑھ سو کلومیٹر دور رائے گڑھ کے جنگلوں میں ملا۔ بتا دیں کہ شینا بورا کا قتل 24 اپریل 2012 کو ہوا تھا اور اس کے بعد قاتلوں نے اس کی لاش کو یہاں لا کر ٹھکانے لگا دیا۔ لیکن جمعہ کو جس گڈھے سے شینا کی لاش کے باقیات نکالے گئے، اس گڈھے میں لاش کو قاتلوں نے نہیں دفن کیا تھا بلکہ وہاں لاش کو لاوارث مان کر پولیس نے دبا دیا تھا۔

Loading...

چوبیس اپریل 2012 کو شینا کے قاتلوں نے لاش کو پھینک دیا تھا اور اس پر پٹرول ڈال کر آگ لگا دی تھی۔ تقریبا ایک ماہ بعد 23 مئی 2012 کو پولیس کو یہاں ایک لاوارث لاشں پڑی ہونے کی خبر ملی۔ رائے گڑھ کے پیڑ گاؤں کے رہنے والے گنیش نام کے شخص نے پولیس کو یہ معلومات دی تھی۔ پولیس نے اس لاش کے بارے میں زیادہ تفتیش کرنا ضروری نہیں سمجھا اور اس نے اسی دن لاش کو یہاں کے جنگلوں میں گڑھے کھود کر دفن کردیا۔

تاہم رائے گڑھ پولیس کا کہنا ہے کہ 23 ​​مئی 2012 کو لاش کو دفن کرنے سے پہلے موقع پر ہی ایک ڈاکٹر سے لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔ لاش سے کچھ نمونے لے کر 25 مئی 2012 کو ممبئی کے جے جے ہسپتال تحقیقات کے لئے بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد جے جے ہسپتال سے جانچ رپورٹ مانگنے کی بھی کسی نے زحمت نہیں اٹھائی۔ وہیں ساری حقیقت سامنے آنے کے بعد اب اس معاملے میں لاپرواہی برتنے والوں کے خلاف کارروائی کی بات کہی جا رہی ہے۔

وہیں وہیں، لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر سنجے ٹھاکر کا کہنا ہے کہ لاش بری طرح سڑ چکی تھی۔ صرف ہڈیاں بچی تھیں اور کھوپڑی میں كریکس تھے، یعنی قتل کرنے کے لئے سر پر شدید چوٹ بھی پہنچائی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات میں یہ پتہ لگانا مشکل تھا کہ لاش کسی عورت کا ہے یا مرد کا۔

 

Loading...