سپریم کورٹ کی نگرانی میں مظفر پور جنسی استحصال معاملے کی جانچ ہو: کانگریس

کانگریس نے سپریم کورٹ کی نگرانی میں مظفر پور جنسی استحصال معاملے کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے

Jul 28, 2018 05:01 PM IST | Updated on: Jul 28, 2018 05:01 PM IST
سپریم کورٹ کی نگرانی میں مظفر پور جنسی استحصال معاملے کی جانچ ہو: کانگریس

علامتی تصویر

نئی دہلی ۔ کانگریس نے بہار حکومت پر ریاست کے مظفر پورشیلٹر ہوم میں بچیوں کے جنسی استحصال کے ملزم کو بچانے کا الزام لگاتے ہوئے معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کی نگرانی میں مرکزی تفتیشی بیورو ( سی بی آئی) سے کرانے اور الزامات کے گھیرے میں آنے والے دیگر تمام بچہ گھروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا آج مطالبہ کیا۔کانگریس کے ترجمان اور بہار کے انچارج شكتی سنگھ گوہل اور پرینکا چترویدی، بہار سے پارٹی کی لوک سبھا رکن رنجیت رنجن اور دہلی پردیش کانگریس کی صدر شرمشٹھا مکھرجی نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بہار سماجی بہبود محکمہ کی طرف سے حکومت کی مدد سے ریاست کے 38 اضلاع میں چلنے والے 110 بچہ گھروں کا آڈٹ کرایا گیا جس نے انکشاف کیا ہے کہ مظفر پور کے بچہ گھر ہاسٹل سمیت ریاست کے کل 15 بچہ گھروں میں بچیوں کا جنسی استحصال ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پہلے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی لیکن جب معاملہ بہار سے لے کر پارلیمنٹ تک گونجا تو وزیر اعلی نتیش کمار دباؤ میں آئے اور انہوں نے مظفر پور کے معاملے میں ایف آئی آر درج کر کے اس کی جانچ کا کام سی بی آئی کو سونپنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کلیدی ملزم ریاست کی سماجی بہبود کی وزیر کا شوہر ہے اور نتیش حکومت اسے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

کانگریس لیڈروں نے کہا کہ مظفر پور بچہ گھر کے ہاسٹل کو حکومت سے مالی مدد ملتی ہے اور وہاں بچیوں کے ساتھ عصمت دری کی شکایت کے بعد جب طبی معائنہ کرایا گیا تو 42 میں سے 29 بچیوں کی عصمت دری ہونے کی تصدیق ہوئی ہے ۔عصمت دری کی شکار ہونے والی زیادہ تر بچیوں کی عمر سات سے 14 سال ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس ہاسٹل کی کم از کم تین بچیوں کا اسقاط حمل کرایا گیا اور تین دیگر حاملہ ہیں۔

Loading...

Loading...