உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممتاز شیعہ عالم دین مولانا کلب صادق کا انتقال، 83 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت

    ممتاز شیعہ عالم دین مولانا کلب صادق کا انتقال

    ممتاز شیعہ عالم دین مولانا کلب صادق کا انتقال

    آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر اور مشہور شیعہ عالم دین مولانا کلب صادق اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ مولانا کلب صادق طویل عرصے سے اترپردیش کی راجدھانی لکھنو کے ایرا میڈیکل کالج میں زیرعلاج تھے۔

    • Share this:





      نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر اور ممتاز شیعہ عالم دین اور معروف اسلامی اسکالر مولانا سید کلب صادق کا طویل علالت کے بعد آج انتقال ہوگیا۔ وہ تقریباً 83 سال کے تھے۔ مولانا کلب صادق طویل عرصے سے اترپردیش کی راجدھانی لکھنو کے ایرا میڈیکل کالج میں زیرعلاج تھے۔ گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر ایک افواہ پھیل گئی تھی کہ مولانا کلب صادق کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی صحت میں مسلسل گراوٹ آرہی تھی اور جسمانی طور پر بے حد کمزور ہوگئی تھی۔ اسپتال کے ذریعہ جاری میڈیکل بلیٹن کے مطابق منگل کو ان کی حالت اور بھی بگڑ گئی تھی اور دیر رات ان کا انتقال ہوگیا۔

      مولانا کلب صادق طویل عرصے سے مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر تھے۔ پوری دنیا میں مشہور ڈاکٹر مولانا کلب صادق تعلیم اور خاص طور پر لڑکیوں اور یتیم بچوں کی تعلیم کے لئے ہمیشہ سرگرم رہے۔ یونٹی کالج اور ایرا میڈیکل کالج کے بانی بھی تھے۔ مولانا کلب صادق کی مجلس صبح 10 بجے یونٹی کالج میں ہوگی۔ ایرا میڈیکل کالج کے احاطے میں 11:30 بجے نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ دوپہر دو بجے چوک واقع امام باڑہ میں تدفین عمل میں آئے گی۔




      مولانا کلب صادق کے بیٹے سبطین نوری نے کہا،’ابا کا انتقال ہو گیا ہے۔ رات تقریباً 10 بجے انہوں نے اسپتال میں آخری سانس لی۔ وہ گذشتہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے بھرتی تھے۔ طبیعت بگڑنے کے بعد گذشتہ 17 نومبر کو آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا تھا‘۔ ڈاکٹر کلب صادق کو کینسر تھا۔ گذشتہ دنوں انھیں نمونیہ ہو گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مذہبی رہنما مولانا کلب صادق کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے اور ان کی روح کی تسکین کی دعا کے ساتھ اہل خانہ کے تئیں ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
      بدھ کے روز چوک واقع امام باڑے میں انھیں سپرد خاک کیا جائے گا۔





      Published by:Nisar Ahmad
      First published: