உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    الیکشن کمیشن کو طے کرنے دیں 'اصلی' شیوسینا کس کی ہے، ایکناتھ شندے کا SC کو جواب

    الیکشن کمیشن کو طے کرنے دیں 'اصلی' شیوسینا کس کی ہے، ایکناتھ شندے کا SC کو جواب ۔ فائل فوٹو ۔

    الیکشن کمیشن کو طے کرنے دیں 'اصلی' شیوسینا کس کی ہے، ایکناتھ شندے کا SC کو جواب ۔ فائل فوٹو ۔

    Shiv Sena Crisis : مہاراشٹر کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے نے اتوار کے روز سپریم کورٹ سے ادھو ٹھاکرے کی ٹیم کی سبھی درخواستوں کو خارج کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ الیکشن کمیشن کو یہ فیصلہ کرنے دیا جائے کہ اصلی شیو سینا کس دھڑے کی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi | Maharashtra | Mumbai
    • Share this:
      نئی دہلی : مہاراشٹر کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے نے اتوار کے روز سپریم کورٹ سے ادھو ٹھاکرے کی ٹیم کی سبھی درخواستوں کو خارج کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ الیکشن کمیشن کو یہ فیصلہ کرنے دیا جائے کہ اصلی شیو سینا کس دھڑے کی ہے۔ ضروری تعداد ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے شندے نے یہ بھی کہا کہ عدالتوں کو " اکثریت کے ذریعہ جمہوری طریقہ سے لئے گئے" پارٹی کے داخلی فیصلوں میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے ۔ ٹھاکرے کا گروپ نہیں چاہتا کہ الیکشن کمیشن ابھی شیوسینا کو لے کر فیصلہ کرے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: 'جھکوں گا نہیں، گرفتار ہوجاوں گا'، ED آفس کے باہر شیوسینا ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت کا بیان


      گزشتہ پیر کو ٹھاکرے گروپ نے عدالت سے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کو شندے کی قیادت میں "باغی" ایم ایل ایز کو نااہل قرار دینے کی درخواستوں پر کوئی بھی فیصلہ لینے سے روکے۔ 'اصلی شیو سینا کون ہے' کا سوال پہلے ہی الیکشن کمیشن کے پاس ہے، جس نے 8 اگست تک دونوں فریقوں سے ثبوت مانگے ہیں، جس کے بعد وہ اس معاملہ کی سماعت کرے گا۔ یہاں شندے اور ٹھاکرے دونوں ہی اصلی شیوسینا ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں ۔ دراصل الیکشن کمیشن ہی کسی پارٹی کو منظوری دیتا ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے: جیریمی نے ہندوستان کو دلایا دوسرا گولڈ میڈل، 19 کی عمر میں بنایا ریکارڈ


      وزیر اعلی شندے نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو یہ طے کرنے دیا جائے کہ شیو سینا کا اصلی وارث کون ہے۔ شندے نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے کہا کہ ان کا گروپ ہی اصلی شیوسینا ہے۔ پچھلی سماعت میں ادھو ٹھاکرے گروپ نے سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی کارروائی پر روک لگانے کی درخواست دائر کی تھی، جب کہ شندے دھڑے نے اس درخواست کے جواب میں کہا ہے کہ عدالت کو فی الحال الیکشن کمیشن کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔

      قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب ادھو ٹھاکرے وزیر اعلیٰ تھے، تب اس وقت کے ڈپٹی اسپیکر نے شندے گروپ کے 16 ایم ایل ایز کو نااہلی کے نوٹس جاری کئے تھے۔ ابھی یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ سپریم کورٹ کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ان ایم ایل ایز کو نااہل ہوئے یا نہیں۔ اسی لئے ٹھاکرے کا گروپ چاہتا ہے کہ پارٹی کی منظوری سے پہلے ایم ایل ایز کی نااہلی کے معاملہ پر فیصلہ کیا جائے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: