مہاراشٹرمیں اقتدارکی جنگ، اسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی بولےسنجے راؤت- وزیراعلیٰ توشیوسینا کا ہی ہوگا

لیلاوتی اسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی شیو سینا رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے مہاراشٹرکے اگلے وزیراعلیٰ کولےکرایک بارپھردوہرایا کہ ریاست میں وزیراعلیٰ توشیوسینا کا ہی بنےگا۔

Nov 13, 2019 06:18 PM IST | Updated on: Nov 13, 2019 06:27 PM IST
مہاراشٹرمیں اقتدارکی جنگ، اسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی بولےسنجے راؤت- وزیراعلیٰ توشیوسینا کا ہی ہوگا

شیوسینا رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے وزیراعلیٰ عہدے کے لئے پھردوہرائی اپنی بات

ممبئی: مہاراشٹرمیں صدرراج نافذ ہونےکے بعد بھی اقتدارکی جنگ ختم ہوتی ہوئی نظرنہیں آرہی ہے۔ شیوسینا، این سی پی اورکانگریس کے درمیان اتحاد کولے کرمسلسل کوششیں جاری ہیں۔ اس درمیان لیلاوتی اسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی شیوسینا رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے مہاراشٹرکےاگلے وزیراعلیٰ کولےکرایک بارپھرسے بیان دیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ ریاست میں وزیراعلیٰ توشیو سینا کا ہی بنےگا۔ واضح رہےکہ 11 نومبرکوسینےمیں تیزدرد کی شکایت کے بعد سنجے راؤت کواسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

واضح رہےکہ وزیراعلیٰ عہدے کولےکرہی شیوسینا این ڈی اے اتحاد سےالگ ہوئی ہے۔ ایسے میں انتخابی نتائج آنےکے19 دن بعد بھی مہاراشٹرمیں ابھی تک نئی حکومت کی تشکیل نہیں ہوپائی ہے۔ شیوسینا نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں الیکشن لڑا تھا، لیکن دونوں میں سے کسی کومکمل اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ حالانکہ بی جے پی کوشیوسینا سے بہت زیادہ سیٹیں ملی ہیں۔ ایسے میں بی جے پی کو حکومت بنانے کے لئے شیوسینا کی حمایت کی ضرورت تھی، لیکن ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی کے سامنے 50-50 کا فارمولہ پیش کردیا تھا۔ اس کے تحت دونوں پارٹیوں کے پاس ڈھائی ڈھائی سال تک کے لئے وزیراعلیٰ کا عہدہ رہتا، لیکن بی جے پی نےاس فارمولےکومسترد کردیا اوردونوں جماعتیں الگ ہوگئیں۔ اس کے بعد ریاست میں کسی بھی جماعت کے حکومت بنانےکی پوزیشن میں نہیں ہونے کے بعد گزشتہ روزصدرراج نافذ کردیا گیا ہے۔

Loading...

وزیراعلیٰ کی کرسی کی مانگ کولےکربی جے پی اورشیوسینا میں کافی دنوں تک رسہ کشی چلتی رہی۔ ایسے میں گورنرنے بی جے پی کوسب سے بڑی جماعت ہونےکے ناطے حکومت بنانےکے لئے دعوت دی تھی، لیکن دیویندرفڑنویس نے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ ہونےکی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کے پاس مکمل اکثریت نہیں ہے۔ اس کے بعد گورنرنے شیوسینا کوحکومت بنانے کی دعوت دی تھی، لیکن شیوسینا نے گورنرسے حکومت سازی کے لئے مزید وقت دیئے جانے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن گورنرنے مزید وقت دینے سے انکار کردیا۔ وہیں  ادھو ٹھاکرے این سی پی اورکانگریس کی حمایت حاصل نہیں کرسکے۔ اس کے بعد گورنرنےاین سی پی کوحکومت سازی کے لئے دعوت دی، لیکن این سی پی کو دیئے گئے وقت سے قبل ہی گورنرنے منگل کوریاست میں صدرراج نافذ کرنے کی سفارش کردی تھی۔ وزارت داخلہ کی منظوری ملنے کے بعد صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے بھی اس پر مہرلگا دی تھی، جس کے بعد مہاراشٹرمیں صدرراج نافذ ہوگیا۔

Loading...