ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مہاراشٹر: سابق فوجی افسر کی پٹائی معاملے میں سیاست تیز، شیو سینا نے وزیر دفاع پر اٹھائے سوال

مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے پر کارٹون بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والے ریٹائرڈ بحری افسر کی پٹائی کے معاملےکو سیاسی رنگ دیئے جانے کو بد قسمتی کی بات قرار دیتے ہوئے شیو سینا کے ترجمان اور رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے سوال کیا کہ اتر پردیش میں کتنے سابق فوجیوں پر حملہ ہوا ہے؟ لیکن، وزیر دفاع نے انہیں فون نہیں کیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 13, 2020 09:30 PM IST
  • Share this:
مہاراشٹر: سابق فوجی افسر کی پٹائی معاملے میں سیاست تیز، شیو سینا نے وزیر دفاع پر اٹھائے سوال
مہاراشٹر: سابق فوجی افسرک ی پٹائی معاملے میں سیاست تیز، شیو سینا نے وزیر دفاع پر اٹھائے سوال

ممبئی: مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے پر کارٹون بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والے ریٹائرڈ بحری افسر کی پٹائی کے معاملےکو سیاسی رنگ دیئے جانے کو بد قسمتی کی بات قرار دیتے ہوئے شیوسینا کے ترجمان اور رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے سوال کیا کہ اتر پردیش میں کتنے سابق فوجیوں پر حملہ ہوا ہے؟ لیکن، وزیر دفاع نے انہیں فون نہیں کیا۔ رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے کہا کہ، "مہاراشٹر ایک بڑی ریاست ہے، ایسا ہی کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اترپردیش میں کتنے سابق فوجیوں پر حملہ ہوا ہے؟ لیکن، وزیر دفاع نے انہیں فون نہیں کیا۔ ہماری حکومت کا ماننا ہے کہ کسی بھی بے گناہ شخص پر حملہ نہیں ہونا چاہئے"۔

سنجے راؤت نے کہا کہ حزب اختلاف کی جانب سے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا بد قسمتی کی بات ہے۔ دونوں جانب سے برداشت کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے۔ وزیر اعظم، صدر جمہوریہ، گورنر اور وزیراعلیٰ جیسے دستوی عہدوں پر فائز افراد کے خلاف آزادی اظہار رائے کے نام پر نازیبا زبان کا استعمال کیا گیا تو لوگوں کے صبر کا دامن چھوٹ جاتا ہے۔ سماج میں تناو پھیلنے سے روکنے اور امن و امان کی برقرار رکھنا، حکومت کے ساتھ ساتھ حسب اختلاف کا بھی فرض ہے۔ مہاراشٹر میں ہمیشہ قانون کا احترام کیا جاتا ہے۔ ممبئی میں بحریہ کے ایک ریٹائرڈ افسر پر حملے کے معاملے میں، قطع نظر اس سے کہ ان کا تعلق کس پارٹی سے ہی تھا، ملزموں کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔


سنجے راؤت نے کہا کہ حزب اختلاف کی جانب سے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا بد قسمتی کی بات ہے۔ دونوں جانب سے برداشت کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے۔
سنجے راؤت نے کہا کہ حزب اختلاف کی جانب سے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا بد قسمتی کی بات ہے۔ دونوں جانب سے برداشت کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے۔



شییوسینا اور کنگنا رانوت کے درمیاں جاری کشیدگی اور لفظی جنگ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ہم نے کنگنا رانوت معاملے پر بات کرنا چھوڑ دی ہے، لیکن ہم اس معاملے میں ہرچیز اور ہرعمل کا نوٹس لے رہے ہیں۔ ہم سمجھیں گے کہ ہماری عظیم ریاست کے بارے میں کون سی سیاسی جماعت اور کون سا فرد، کیا سوچتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آئندہ پارلیمانی اجلاس میں، میں ہندوستان - چین سرحدی امور، جی ایس ٹی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کرنا چاہوں گا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 13, 2020 09:18 PM IST