ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

دہلی تشدد پر شیو سینا کا حملہ، کہا- اس پر کس سے استعفیٰ مانگو گے ممتا بنرجی یا ادھو ٹھاکرے یا جو بائیڈن

شیو سینا لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ قانون لوگوں کے لئے بنائے جاتے ہیں، اگر لوگ خوش نہیں ہیں تو یہ قانون کس کے لئے ہے؟ آج ہوئے تشدد کا ذمہ دار کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اور سرکار ہوتی تو اس سے فوراً استعفیٰ مانگا جاتا، لا اینڈ آرڈر کون دیکھ رہا ہے؟ انہوں نے برسر اقتدار جماعت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ اب ممتا بنرجی یا ادھو ٹھاکرے کا استعفیٰ مانگیں۔

  • Share this:
دہلی تشدد پر شیو سینا کا حملہ، کہا- اس پر کس سے استعفیٰ مانگو گے ممتا بنرجی یا ادھو ٹھاکرے یا جو بائیڈن
دہلی تشدد پر شیو سینا کا حملہ، کہا- اس پر کس سے استعفیٰ مانگو گے ممتا بنرجی یا ادھو ٹھاکرے یا جو بائیڈن

ممبئی: دہلی میں کسانوں کے آندولن میں ہوئے تشدد پر اب سیاسی جماعتوں نے حکومت کو گھیرنا شروع کردیا ہے۔ شیو سینا نے مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں ہوا تشدد حکومت کی ناکامی ہے۔ شیو سینا لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ قانون لوگوں کے لئے بنائے جاتے ہیں، اگر لوگ خوش نہیں ہیں تو یہ قانون کس کے لئے ہے؟ آج ہوئے تشدد کا ذمہ دار کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اور سرکار ہوتی تو اس سے فوراً استعفیٰ مانگا جاتا، لا اینڈ آرڈر کون دیکھ رہا ہے؟ انہوں نے برسراقتدار جماعت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ اب ممتا بنرجی یا ادھو ٹھاکرے کا استعفیٰ مانگیں۔


سنجے راوت نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا، دہلی میں لا اینڈ آرڈر فیل ہوگئی ہے۔ یہ حکومت کی ناکامی ہے۔ اس بدامنی کے لئے، دہلی میں قدم اٹھائے گئے۔ وہ کس سے استعفیٰ مانگیں گے؟ سونیا گاندھی، ممتا بنرجی، ادھو ٹھاکرے، شرد پوار یا جو بائیڈن؟ اس معاملے پر استعفیٰ... استعفیٰ دیا جاتا ہے صاحب...


شیو سینا رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے منگل کو کہا ہے کہ ہم کسانوں کے مطالبات کے ساتھ اور پُرامن آندولن کی حمایت کرتے ہیں، لیکن دہلی میں ہوئے تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسان لیڈروں نے حکومت سے پُرامن مظاہرہ کا وعدہ کیا تھا تو اسے پورا کرنا چاہئے تھا۔ سنجے راوت نے کہا کہ آج دہلی کی سڑکوں پر جو نظارہ دیکھنے کو ملا وہ نہ تو مظاہرین کو زیب دیتا ہے اور نہ ہی حکومت کو۔ دو ماہ سے چلا آرہا کسانوں کا احتجاج، لیکن اچانک سے کیا ہوگیا؟ ایسا آندولن تو دنیا میں کہیں نہیں ہوا تھا۔ کیا حکومت اس دن کا انتظار کر رہی تھی، کیا حکومت کسانوں کے صبر کا پیمانہ ٹوٹنے کا انتظار کر رہی تھی؟


سنجے راوت نے کہا کہ ممبئی کے آزاد میدان پر ریاست کے ہزاروں کسان آئے تھے، لیکن ماحول خراب نہیں ہونے دیا گیا۔ تاہم دہلی میں شاید ایمرجنسی کا ماحول بنانا چاہتے ہو۔ یہی کوشش گزشتہ سال شاہین باغ میں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب بابری مسجد منہدم ہوگئی تھی، تب بھی پولیس کو یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کیا حکومت اسی دن کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی؟ سنجے راوت نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ کے ذریعہ سے کہا کہ حکومت نے آخر تک لاکھوں کسانوں کی بات کیوں نہیں سنی۔ یہ کس ٹائپ کی جمہوریت ہمارے ملک میں پنپ رہی ہے؟ یہ جمہوریت نہیں ہے بھائی... کچھ اور ہی چل رہا ہے...۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 26, 2021 07:54 PM IST