உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چچا بھتیجے کے درمیان اختلافات میں اضافہ، بنیں گے یا بکھریں گے؟ جانیں شیو پال کے CM یوگی کے بعد اعظم خان سے ملنے کا مطلب

    چچا بھتیجے کے درمیان اختلافات میں اضافہ، بنیں گے یا بکھریں گے؟

    چچا بھتیجے کے درمیان اختلافات میں اضافہ، بنیں گے یا بکھریں گے؟

    Shivpal Vs Akhilesh Yadav: یوپی اسمبلی انتخابات 2022 میں سماجوادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو اور شیو پال یادو ساتھ مل کر بی جے پی سے لڑے۔ وہیں الیکشن کے بعد آپس میں لڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ آرایل ایس پی سربراہ کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بعد رامپور کے سماجوادی پارٹی رکن اسمبلی اور عظیم لیڈر اعظم خان سے سیتا پور جیل میں ملنے کے الگ الگ مطلب نکالے جا رہے ہیں۔ اب سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا چچا اور بھتیجے کی دلوں کی درار واقعی میں کوئی سنگین موڑ لے سکتی ہے۔

    • Share this:
      لکھنو: اکھلیش یادو کے چچا شیوپال سنگھ یادو نے اپنے بڑے بھائی ملائم سنگھ یادو کے ساتھ مل کر سماجوادی پارٹی کی بنیاد رکھی اور پھر سے مضبوط کیا۔ کئی عہدوں کا کام کاج سنبھالتے ہوئے حکومت میں وزیر بھی بنے۔ حالانکہ ان کے لئے یہ سب آسان نہیں رہا اور انہوں نے اپنے سیاسی سفر میں کئی اتار چڑھاو دیکھے ہیں۔ وقت وقت پر فیملی کے اندر اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں تو اکھلیش یادو سے من مٹاو، ناراضگی اور منانا بھی جاری رہا ہے۔ وہیں، 2017 کے اسمبلی انتخابات کے پہلے ہوئے گھریلو جھگڑے کے بعد شیوپال سنگھ یادو نے اپنا راستہ الگ کرلیا اور سال 2018 میں پرگتی شیل سماجوادی پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔

      اس کے بعد 2022 یوپی اسمبلی انتخابات میں ایک بار پھر نہ صرف ساتھ آئے بلکہ سب کچھ بھول کر ساتھ لڑے بھی۔ حالانکہ جیت نہیں ہوئی۔ وہیں الیکشن کے بعد رشتوں میں پیدا ہوئی تلخی ایک بار پھر سے درد دیتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اس درمیان چچا اور بھتیجے کے رشتے کے درمیان قیاس آرائیوں کی بھی بھرمار ہے۔

      ہیں یار، یا پھر تکرار؟

      سرخیوں کا بازار گرم ہے، خاص طور پر حال ہی میں دیئے گئے بیان کا تجزیہ کیا جائے، تو تضاد کی صورتحال واضح نظر آرہی ہے۔ 20 اپریل کو آگرہ میں شیو پال سے متعلق سوال پر اکھلیش یادو نے کہا کہ جو بی جے پی سے ملے گا، وہ سماجوادی میں نہیں نظر آئے گا، جس کے بعد نیوز 18 سے خاص بات چیت میں شیوپال سنگھ یادو نے بیان دیا کہ اگر مجھ سے کوئی پریشانی ہے، تو مجھے پارٹی سے نکال دیں۔ اس کے بعد شیو پال یادو سیتا پور جیل میں بند اعظم خان سے ملنے پہنچے۔ جیل میں ایک گھنٹے کی ملاقات کے بعد باہر نکلنے پر شیوپال یادو نے کہا کہ اعظم خان سینئر لیڈر ہیں، ان پر چھوٹے چھوٹے مقدمے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کو ان کے لئے لڑنا چاہئے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہم اعظم خان کے ساتھ ہیں اور وہ ہمارے ساتھ۔ اس کے ساتھ کہا کہ صحیح وقت کا انتظار کیجئے اور ساری باتیں بتائی جائیں گی۔

      واضح رہے کہ اعظم خان کے خیمے میں اکھلیش یادو سے ناراضگی کی خبریں پہلے سے ہی تیز تھیں۔ ان کے حامیوں نے بھی اپنی ناراضگی عوامی طور پر ظاہر کی تھی۔ خبر آئی تھی کہ سماجوادی سربراہ ان کو منانے کے لئے کوشاں بھی تھے۔ حالانکہ اب ان دو دنوں میں جس طرح کے حالات، بیان اور باتیں سامنے آئی ہیں، ان کے بعد اب سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا دلوں کی درار واقعی میں کوئی سنگین موڑ لے سکتی ہے؟
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: