உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اکھلیش یادو کے بیان پرناراض ہوئے شیو پال، کہا- بی جے پی میں بھیجنا ہے تو سماجوادی سے مجھے نکال دو

    اکھلیش یادو کے بیان پرناراض ہوئے شیو پال

    اکھلیش یادو کے بیان پرناراض ہوئے شیو پال

    سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور ان کے چچا اور پی ایس پی ایل سربراہ شیو پال سنگھ یادو کے درمیان بیان بازی تلخ ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ مین پوری میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے آج صحافیوں سے بات چیت میں سوال کیا کہ بی جے پی چچا شیو پال سنگھ کو اپنی ٹیم میں جلد سے شامل کیوں نہیں کرتی۔

    • Share this:
      اٹاوہ: سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور ان کے چچا اور پی ایس پی ایل سربراہ شیو پال سنگھ یادو کے درمیان بیان بازی تلخ ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ مین پوری میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے آج صحافیوں سے بات چیت میں سوال کیا کہ بی جے پی چچا شیو پال سنگھ کو اپنی ٹیم میں جلد سے شامل کیوں نہیں کرتی۔ اکھلیش کے اس بیان پر چچا شیو پال یادو نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اکھلیش یادو کے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی میں بھیجنا ہے تو مجھے سماجوادی پارٹی سے نکال دینا چاہئے۔

      شیوپال سنگھ یادو نے کہا، ’اکھلیش یادو کا غیر ذمہ دارانہ بیان ہے، نادانی کا بیان ہے۔ سماجوادی پارٹی کے 111 اراکین اسمبلی ہیں۔ ان میں سے ایک میں بھی ہوں۔ اگر وہ مجھے بی جے پی میں بھیجنا چاہتے ہیں تو پہلے سماجوادی پارٹی سے نکال دیں‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جب وقت آئے گا تب وہ سبھی کو اپنے فیصلے کے بارے میں خود جانکاری دیں گے‘۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      کانگریس میں کیوں شامل نہیں ہوئے پرشانت کشور؟ قریبی لوگوں نےکہا- ان دو وجوہات کے سبب PK نے ٹھکرایا آفر

      شیوپال یادو آج سماجوادی پارٹی کے آنجہانی راجیہ سبھا رکن درشن سنگھ یادو کی بیوی شکنتلا دیوی کی موت پر اظہار تعزیت کرنے کے لئے اٹاوہ آئے تھے۔ یہاں انہوں نے صحافیوں سے بات چیت میں یوپی کے سابق کابینی وزیر اعظم خان کے حق میں بھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ’اعظم خان سب سے سینئر رکن اسمبلی ہیں۔ لوک سبھا رکن پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ بھی رہے۔ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ جب وہ لوک سبھا رکن تھے، تو ان پر ہو رہے ظلم کے خلاف سماجوادی پارٹی کو لوک سبھا اور اسمبلی میں دھرنا پر بیٹھ جانا چاہئے تھا۔ نیتا جی ملائم سنگھ یادو کو بھی دھرنے میں شامل کرتے‘۔

      اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا، ’پورا ملک جانتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نیتا جی ملائم سنگھ یادو کا احترام کرتے ہیں۔ اگر نیتا جی آندولن میں شامل ہوتے تو ضرور اعظم خان کے ساتھ انصاف ہوتا۔ آج ان پر چھوٹے چھوٹے 72 مقدمے ہیں۔ ایک چھوٹے کیس میں چار ماہ سے ضمانت نہیں مل رہی ہے۔ فیصلہ ریزرو رکھا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ظلم اور نا انصافی کے خلاف سماجوادیوں کے جدوجہد کی تاریخ رہی ہے۔ آج یہ جدوجہد کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: