ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

شیوراج کابینہ کی صبح 11:30 بجے ہوگی توسیع، چارٹرڈ پلین سے بھوپال پہنچیں گے یہ عظیم لیڈر

مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ کابینہ کی توسیع کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ کل کابینہ کی توسیع ہوگی اورنئے وزرا کی حلف برداری تقریب کا انعقاد ہوگا۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ حکومت 2018 میں قائم ہوئی تھی۔

  • Share this:
شیوراج کابینہ کی صبح 11:30 بجے ہوگی توسیع، چارٹرڈ پلین سے بھوپال پہنچیں گے یہ عظیم لیڈر
شیوراج کابینہ کی صبح 11:30 بجے ہوگی توسیع

بھوپال: مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ کابینہ کی توسیع کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ کل کابینہ کی توسیع ہوگی اورنئے وزرا کی حلف برداری تقریب کا انعقاد ہوگا۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ حکومت دوہزار اٹھارہ میں قائم ہوئی تھی۔ 15 مہینے کی سرکار اس وقت مشکل میں آگئی جب جیوترادتیہ سندھیا کے حامی 22 ممبران اسمبلی نے بغاوت کی اور بی جے پی کے دامن سے وابستہ ہوگئے۔ کمل ناتھ حکومت کو باہر راستہ دیکھنا پڑا اور شیوراج سنگھ چوہان سندھیا حامیوں  کے سبب مدھیہ پردیش کے چوتھی بار وزیر اعلی بننے میں کامیاب ہوئے۔ شیو راج سنگھ چوہان حکومت کی جمعرات کو پہلی کابینی توسیع ہوگی۔ بھوپال میں راج بھون میں صبح 11 بجے وزرا حلف لیں گے۔ اس دوران 25 نئے وزیر بنائے جاسکتے ہیں۔


شیوراج سنگھ چوہان نے 23 مارچ کو اپنے عہدے کا حلف لیا لیکن کابینہ کی تشکیل نہیں ہوسکی۔ 30 دن کے بعد شیوراج کابینہ کی تشکیل توہوئی لیکن اس میں صرف پانچ وزرا کو ہی شامل کیاگیا۔ اب ایک سو دو دن کے بعد پھر کابینہ کی توسیع ہوگی۔ شیوراج سنگھ کابینہ کی توسیع کو لیکر دہلی میں بی جے پی اعلی قیادت کے ساتھ کئی دور کی میٹنگ کے بعد مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں کئی دور کی میٹنگ ہوچکی ہے ۔ سی ایم شیوراج سنگھ نے کل کابینہ کی توسیع کی اعلان بھی کردیا ہے اور کل گیارہ بجے دن میں راج بھون میں حلف برداری تقریب کی تیاریاں بھی شروع کردی گئی ہیں لیکن ابھی تک کن لوگوں کی حلف برداری ہوگی یہ فائنل نہیں ہوسکا ہے بلکہ بھوپال میں میٹنگوں کا دور جاری ہے۔


 شیوراج سنگھ چوہان نے 23 مارچ کو اپنے عہدے کا حلف لیا لیکن کابینہ کی تشکیل نہیں ہوسکی۔

شیوراج سنگھ چوہان نے 23 مارچ کو اپنے عہدے کا حلف لیا لیکن کابینہ کی تشکیل نہیں ہوسکی۔


شیوراج کابینہ کی توسیع میں بی جے پی کے لئے  سب سے بڑی مشکل اپنے لیڈران کے ساتھ سندھیا خیمہ کے لیڈران کوخوش کرنا ہے۔ بی جے پی کی مشکل یہاں بھی ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ کابینہ میں پرانے لیڈران کےساستھ نئے لیڈران کو ایڈجسٹ کرنے کا بھی معاملہ ہے ۔پارٹی ہائی کمان کابینہ میں نئے لیڈران کو موقع دینے کے حق میں ہے  لیکن شیوراج سنگھ کابینہ میں پارٹی کے سینئر لیڈران کو موقع دینا چاہتے ہیں جو ان کے پارٹی کے لئے بڑی مشکل ہے۔ پارٹی کو یہ بھی خطرہ ہے کہ اگر سینئر لیڈان کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے لئے وہی حالات نہ پیدا ہوجائیں جو کانگریس کے سامنے مشکل پیش آئی تھی۔
اگر مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی سیاست اور دوہزار اٹھارہ کے اسمبلی انتخابات پر نظرڈالیں توبی جے پی کے ایک درجن وزرا کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا تھا جبکہ اس کے چھیہتر نئے لیڈران اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔پارٹی کی سوچ ہے کہ نئی قیادت کو موقع دیکر اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں یوتھ کو متوجہ کیا جائے۔

وہیں اس کے پیچھے پارٹی کا یہ بھی ماننا ہے کہ سینئر لیڈروں کو پچھلے پندرہ سالوں میں پارٹی کے ذریعہ بہت کچھ دیا جا چکا ہے۔بی جے پی نے اس کے لئے پلان بی کو تیار کیا ہے اگر سینئرلیڈروں کی جانب سے بغاوت کے معاملے سامنے آتے ہیں تو انہیں دوسرے محکموں میں عہدہ دیکر مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ایسے ممبران اسمبلی جو بی جے پی کے لئے مشکلات پیدا کرسکتےہیں انہیں بھوپال بلاکر کئی دور کی میٹنگ کی جا چکی ہے۔ ان لیڈروں میں وجے شاہ،رام پال سنگھ،راجیندر شکلا،بھوپیندر سنگھ،پارس جین اور گوری شنکر بسین ،سنجے پاٹھک کے نام سرفہرست ہیں۔

شیوراج کابینہ کی توسیع میں بی جے پی کے لئے سب سے بڑی مشکل اپنے لیڈران کے ساتھ سندھیا خیمہ کے لیڈران کوخوش کرنا ہے۔
شیوراج کابینہ کی توسیع میں بی جے پی کے لئے سب سے بڑی مشکل اپنے لیڈران کے ساتھ سندھیا خیمہ کے لیڈران کوخوش کرنا ہے۔


اس بیچ وزیر اعلی شیوراج سنگھ کا بیان اہمیت کاحامل ہے۔شیوراج سنگھ کہتے ہیں کہ منتھن سے امرت نکلتا ہے۔ زہر تو شیوپی جاتے ہیں ۔شیوراج سنگھ کے اس بیان کے بعد سیاسی گلیاروں میں اس کے الگ الگ معنی نکالے جانے لگے ہیں کہ زیہر کس نے پیا اور امرت کس کو ملا۔ایم پی بی جے پی انچارج سہاس بھگت کہتے ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔سب کچھ اتفاق رائے سےہو رہا ہے ۔کون حلف لے گا کل نام سامنے آجائیں گے۔
وہیں سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ شیوراج  کابینہ کی توسیع اور بی جے پی کے اندر جاری کشمکش پر طنز کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ملک کی تاریخ میں پہلی بار اتنے لمبے وقت کے بعد کابینہ کی تشکیل ہورہی ہے۔کابینہ کی توسیع میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی ہے؟کابینہ توسیع کا کیا نتیجہ ہوگا ؟اور اس سے مدھیہ پردیش کے مستقبل کے ساتھ کیا کھلواڑ ہوگا یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
شیوراج کابینہ کی توسیع سے قبل اترپردیش کی گورنر آنند بین پٹیل نے مدھیہ پردیش کے گورنر کے اضافی چار ج کے طور پر اپنے عہدے کا حلف لے لیا ہے۔ شیوراج کابینہ کی توسیع کے بعد صوبہ کی چوبیس سیٹوں پر ہونے والے اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں پارٹی کتنا کامیاب ہوتی ہے یہ توآنے والا وقت بتائے گا۔ ذرائع کا ماننا ہے کہ کابینہ توسیع میں پچیس لیڈران کو شامل کیا جائے گا جس میں آٹھ سے دس سندھیاخیمہ اور پندرہ سے سترہ بی جےپی کے لیڈر شامل ہونگے ۔إود جیوترادتیہ سندھیا حلف برداری تقریب میں شامل ہونگے ۔تقریب کے بعد وہ اپنے حمایتی بائیس سابق ممبران اسمبلی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ میٹنگ کرین گے۔
First published: Jul 01, 2020 10:59 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading