உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh: مدھیہ پردیش کی شیوراج حکومت نے سرکاری ملازمین کو دیا تحفہ، ڈی اے میں اضافہ کا اعلان، کانگریس نے اٹھائے سوال

    مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ حکومت نے اگست ماہ سے صوبہ کے سرکاری ملازمین کے ڈی اے میں تین فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے فیصلہ کے بعد مدھیہ پردیش سیاسی گھمسان شروع ہوگیا ہے۔

    مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ حکومت نے اگست ماہ سے صوبہ کے سرکاری ملازمین کے ڈی اے میں تین فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے فیصلہ کے بعد مدھیہ پردیش سیاسی گھمسان شروع ہوگیا ہے۔

    مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ حکومت نے اگست ماہ سے صوبہ کے سرکاری ملازمین کے ڈی اے میں تین فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے فیصلہ کے بعد مدھیہ پردیش سیاسی گھمسان شروع ہوگیا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ حکومت نے اگست ماہ سے صوبہ کے سرکاری ملازمین کے ڈی اے میں تین فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے فیصلہ کے بعد مدھیہ پردیش سیاسی گھمسان شروع ہوگیا ہے۔ شیوراج سنگھ حکومت کے ذریعہ سرکاری ملازمین کے ڈی اے میں اضافہ کو جہاں حکومت کا بڑا کارنامہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وہیں کانگریس نے جنوری سے ڈی اے میں اضافہ کا مطالبہ کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی پرانی پنشن کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
    واضح رہے کہ سرکاری ملازمین کو ابھی تک مدھیہ پردیش میں 31 فیصد ڈی اے ملتا تھا، جس میں حکومت کے ذریعہ تین فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے اب اسے 34 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کے ذریعہ مرکزی حکومت کے ملازمین کے مساوی اسٹیٹ ملازمین کو ڈی اے دیئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کے فیصلہ سے سرکار پر 625 کروڑ کا اضافی مالی بوجھ تو بڑھے گا مگر اس سے صوبہ کے 7.5 لاکھ سے زیادہ سرکاری ملازمین کو فائیدہ ہوگا۔ سرکاری ملازمین کے ڈی اے میں اضافہ کا اعلان خود وزیر اعلی شیوراج سنگھ کے ذریعہ کیاگیا ہے۔
    سرکاری ملازمین کے ڈی اے میں اضافہ کے تعلق سے جب نیوز ایٹین اردو نے سینئر کانگریس لیڈر وسابق وزیر پی سی شرما سے بات کی تو انہوں نے حکومت کے فیصلہ کو سرکاری کے ملازمین کے ساتھ دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ملازمین کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے۔ اگست سے ڈی اے لاگو کرنے کی بات کہی جا رہی ہے لیکن جنوری سے جولائی تک کا کیاہوگا۔ ہماری سرکارسے ملانگ ہے کہ وہ ملازمین کو جنوری سے ڈی اے دے اور ساتھ ہی پرانی پینشن کو بھی لاگو کرے ۔سرکارکے ذریعہ ابتک دو لاکھ پنچانوے ہزار کروڑ روپیہ عوام کی فلاح کے نام پر قرض لیا جاچکا ہے لیکن عوام پریشان ہیں، سڑکیں خستہ حال، اسپتال شکستہ حال اور کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہے۔

    وہیں اس تعلق سے جب نیوز ایٹین اردو نے مدھیہ پردیش کے وزیر برائے شہری ترقیات بھوپیندر سنگھ سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ کانگریس صرف مخالفت کرتی ہے ۔انہوں نے کانگریس سے سوال کیا کہ کیا کانگریس کو چھ سو پچیس کروڑ روپیہ کم لگتا ہے جو ڈی اے بڑھانے کی مخالفت کر رہی ہے ۔کانگریس ملازمین کا کتنا بھلا چاہتی ہے یہ سب کو معلوم ہے۔کانگریس بتائے کہ انہوں نے اپنی حکومت میں ملازمین کے ڈی اے میں کتنے فیصد کا اضافہ کیا تھا۔ کانگریس منفی سیاست کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ عوام نے اسے حاشیہ پر پہنچا دیا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: