உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شیوراج حکومت نے مندروں کے پجاریوں کے نذرانہ میں اضافہ کے لئے جاری کئے احکام

    مدھیہ پردیش کی شیوراج سنگھ حکومت نے بھیک مانگنے والے بچوں کو نہ صرف اس نجات سے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ انہیں تعلیم سے بھی جوڑنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

    مدھیہ پردیش کی شیوراج سنگھ حکومت نے بھیک مانگنے والے بچوں کو نہ صرف اس نجات سے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ انہیں تعلیم سے بھی جوڑنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

    شیوراج سنگھ حکومت حکومت کے ذریعہ جاری کردہ احکام کے مطابق، جن مندروں کے پجاریوں کے پاس کوئی زمین نہیں ہے انہیں پانچ ہزار روپئے ماہانہ نذرانہ دیا جائے گا جبکہ جن مندروں کے پاس پانچ ایکڑ تک زمین ہے انہیں ڈھائی ہزاراور جن مندروں کے پاس دس ایکڑتک زمین ہے انہیں دو ہزار روپئے ماہانہ نذرانہ ادا کیا جائے گا۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش میں مندرکے پجاریوں کو حکومت کے ذریعہ دیئے جانے والے نذرانہ میں اضافہ کا مطالبہ تو ایک لمبے عرصے سےکیا جا رہا تھا، مگر شیوراج سنگھ حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اب مندروں کے پجاریوں کے نذرانہ میں اضافہ کا احکام جاری کردیا ہے۔ حکومت کے ذریعہ جاری کردہ احکام کے مطابق، جن مندروں کے پجاریوں کے پاس کوئی زمین نہیں ہے انہیں پانچ ہزار روپئے ماہانہ نذرانہ دیا جائے گا جبکہ جن مندروں کے پاس پانچ ایکڑ تک زمین ہے انہیں ڈھائی ہزاراور جن مندروں کے پاس دس ایکڑتک زمین ہے انہیں دو ہزار روپئے ماہانہ نذرانہ ادا کیا جائے گا۔

    حکومت نے دس ایکڑ سے زیادہ زمین رکھنے والے مندروں کے پجاریوں کو کچھ بھی نذرانہ نہیں دینے کا احکام جاری کیا ہے۔ مندروں کے پجاریوں کے نذرانہ میں اضافہ کے احکام سے مندر کے پجاری خوش تو ہیں لیکن وہ حکومت کے فیصلہ کو ادھورا فیصلہ بتا رہے ہیں۔ وہیں مسلم تنظیموں نے حکومت کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے مندروں کے ساتھ مساجد کے آئمہ وموزنین کی تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ کیا ہے۔
    بھوپال پیر گیٹ مندر کے پجاری مانگی لال سینی کہتے ہیں کہ حکومت نے دیر سے ہی سہی ایک بڑا فیصلہ کیا ہے ۔حکومت کے اس فیصلہ کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اس کے ساتھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت کو مندروں کے پجاریوں کو نذرانہ ادا کرنے کے ساتھ زمینوں کی جو قید لگائی ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔

    شیوراج سنگھ حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے مندر کے پجاریوں کے نذرانہ میں اضافہ کا احکام جاری کردیا ہے۔
    شیوراج سنگھ حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے مندر کے پجاریوں کے نذرانہ میں اضافہ کا احکام جاری کردیا ہے۔


    وہیں جے این یو کورٹ ممبر اور سماجی کارکن سید امتیاز علی نے نیوز ایٹین اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔جن لوگوں نے مندروں کے پجاریوں کو نذرانہ دینے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے زمینی حقیقت کو نہیں دیکھا ہے ۔ صوبہ میں ایسے بہت سے مندر ہیں جن کے پاس پانچ ایکڑ یاا اس سے زیادہ زمین ہے لیکن یہ زمینی پتھریلی  ہیں اور ان کے پاس زراعت کے لئے پانی کا کوئی انتظام نہیں ہونے سے وہ اس زمین پر کاشت کاری کرنے سے محروم ہیں ۔ اور حکومت نے جو اسکیم بنائی ہے اس کا فائیدہ ان مندروں کے پجاریوں تک نہیں پہنچ پائے گا۔
    مدھیہ پردیش سرودھرم سدبھاؤنا منچ کے سکریٹری حاجی محمد عمران نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں حکومت کو مندروں کے پجاریوں کی فکر ہوئی اور حکومت نے مندروں کے پجاریوں کے نذرانہ کا فیصلہ کیا ہے اس کے لئے ہم حکومت کے شکر ؑگزار ہیں لیکن اسی کے ساتھ ہم حکومت سے اس کے فیصلہ میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔حکومت کو مندروں کے پجاریوں کے ساتھ اس میں مساجد کے آئمہ وموزنین کو بھی شامل کرنا چاہئے۔ ہندو اور مسلم دو بھائی ہیں حکومت نے ہندو بھائی کے لئے مندروں میں پوجا کا کرنے والے پجاریوں کی جانب تو محبت کی ہے لیکن اسے مساجد کے آئمہ وموزنین کی جانب بھی توجہ کرنا چاہیئے۔پھر مساجد کمیٹی کو تو مرجر ایگریمنٹ کے تحت گرانٹ دی جاتی ہے  لیکن یہ وقت پر جاری نہیں ہونے سے امام و موزن حضرات کو وقت پر تنخواہ نہیں ملتی ہے ۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح ایک بھائی پر محبت لٹائی ہے اسی طرح دوسرے بھائی کی جانب بھی محبت کی نظر سے دیکھا جائے۔
    وہیں سماجی کارکن سید محسن علی کہتے ہیں کہ بھوپال نواب نے مسجد کے آئمہ وموزنین کے ساتھ مندروں کے پجاریوں کے لئے انڈین یونین سے انضمام ریاست کے وقت معاہدہ کیا تھا ۔ نواب بھوپال نے دونوں کی جانب محبت کی نظر سے دیکھا تھا ہماری حکومت کو بھی اس پر عمل کرنا چاہیئے ساتھ ہی مندروں کے پجاریوں کو جو پانچ ہزار روپیہ ماہانہ نذرانہ دینے کا فیصلہ کیاگیا ہے وہ بہت کم ہے ۔مہنگائی کے دور میں اس معمولی رقم سے کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: