உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ سے ادھو گروپ کو بڑا جھٹکا، اصلی شیوسینا کون؟ اب الیکشن کمیشن کر سکے گا فیصلہ

    سپریم کورٹ سے ادھو گروپ کو بڑا جھٹکا، اصلی شیوسینا کون؟ اب الیکشن کمیشن کر سکے گا فیصلہ

    سپریم کورٹ سے ادھو گروپ کو بڑا جھٹکا، اصلی شیوسینا کون؟ اب الیکشن کمیشن کر سکے گا فیصلہ

    اصلی شیوسینا کون ہے، شندے گروپ کی اس عرضی پر الیکشن کمیشن فیصلہ کرسکے گا ۔ الیکشن کمیشن کے فیصلہ لینے پر سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے روک لگانے سے انکار کردیا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi | Mumbai
    • Share this:
      نئی دہلی : اصلی شیوسینا کون ہے، شندے گروپ کی اس عرضی پر الیکشن کمیشن فیصلہ کرسکے گا ۔ الیکشن کمیشن کے فیصلہ لینے پر سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے روک لگانے سے انکار کردیا ہے ۔ عدالت نے ادھو گروپ کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے ایسا کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ ادھو گروپ نے الیکشن کمیشن کے فیصلہ لینے پر روک لگانے کی اپیل کی تھی ۔ عدالت عظمی کی ایک آئینی بینچ ادھو ٹھاکرے کے قیادت والے گروپ کی اس عرضی پر سماعت کررہی تھی، جس میں الیکشن کمیشن کو اصلی شیوسینا کو لے کر شندے گروپ والے گروپ کے دعوے پر فیصلہ لینے سے روکنے کی اپیل کی گئی تھی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: پولیس کا بڑا دعویٰ- پاکستان کے رابطے میں تھے پی ایف آئی اراکین، 50 سے زیادہ پاکستانی نمبر


      اس سے پہلے عدالت نے گزشتہ 23 اگست کو شیوسینا اور مہاراشٹر کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے کی جانب سے داخل ان عرضیوں کو پانچ رکنی آئینی بینچ کے پاس بھیج دیا تھا، جس میں پارٹی بدلنے، انضمام اور نا اہلی سے وابستہ کئی آئینی سوالات اٹھائے گئے ہیں ۔ اس نے الیکشن کمیشن سے شندے گروپ کی عرضی پر کوئی آرڈر پاس نہیں کرنے کیلئے کہا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اس کو 'اصلی' شیوسینا مانا جائے اور پارٹی کا انتخابی نشان دیا جائے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش میں کشتی کے سانحے میں 51 افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ، 10 کو بچا لیا گیا


      بینچ نے کہا تھا کہ درخواستوں میں آئین کے 10ویں شیڈول سے متعلق کئی اہم آئینی معاملات اٹھائے گئے ہیں جن میں نااہلی، اسپیکر اور گورنر کے اختیارات اور عدالتی ریویو شامل ہیں۔ آئین کے 10 ویں شیڈول میں منتخب اور نامزد ارکان کے ان کی سیاسی جماعتوں سے 'دل بدل' کی روک تھام کا پروویزن ہے اور اس میں 'دل بدل' کے خلاف سخت دفعات ہیں۔

      ٹھاکرے گروپ نے پہلے کہا تھا کہ شندے کے وفادار پارٹی ایم ایل ایز کسی دوسری سیاسی پارٹی میں ضم ہو کر ہی آئین کے 10ویں شیڈول کے تحت خود کو نااہلی سے بچا سکتے ہیں۔ شندے گروپ نے دلیل دی تھی کہ 'دل بدل' مخالف قانون ایسے لیڈر کے لئے کوئی بنیاد نہیں ہے، جس نے اپنی پارٹی کا اعتماد کھو دیا ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: