ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

Bihar Assembly Elections 2020: سابق مرکزی وزیر دگ وجے سنگھ کی بیٹی شوٹر شیئرسی سنگھ بی جے پی میں شامل

Bihar Assembly Election: بہار اسمبلی انتخابات سے پہلے بین الاقوامی شوٹر شیئرسی سنگھ (Shreyasi Singh) بی جے پی (BJP) میں شامل ہوگئیں۔ اس طرح سے آرجے ڈی (RJD) کی رکنیت لینے کی قیاس آرائیاں بھی ختم ہوگئیں۔

  • Share this:
Bihar Assembly Elections 2020: سابق مرکزی وزیر دگ وجے سنگھ کی بیٹی شوٹر شیئرسی سنگھ بی جے پی میں شامل
سابق مرکزی وزیر دگ وجے سنگھ کی بیٹی شوٹر شیئرسی سنگھ بی جے پی میں شامل

نئی دہلی: بہار اسمبلی انتخابات (Bihar Assembly Election) سے قبل سابق مرکزی وزیر دگ وجے سنگھ اور سابق رکن پارلیمنٹ پوتل کماری کی بیٹی نیشنل شوٹر شیئرسی سنگھ (Shreyasi Singh) اتوار کو بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) میں شامل ہوگئیں۔ بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے پارٹی ہیڈ کوارٹر میں ان کا خیر مقدم کیا۔ شیئرسی کے ساتھ ان کی ماں بھی موجود تھیں۔  سابق رکن پارلیمنٹ پوتل کماری پہلے ہی بی جے پی میں شامل ہوچکی ہیں۔گزشتہ لوک سبھا انتخاب میں آزاد انتخاب لڑنے کے سبب انہیں معطل کیا گیا تھا، آج ان کی معطلی ختم ہوگئی ہے۔


سابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ پوتل کماری کی بیٹی شیئرسی سنگھ نے 2019 لوک سبھا الیکشن میں ماں کے لئے انتخابی تشہیر کی تھی۔ ان کے انتخابی جلسے اور روڈ شو میں جمع ہونے والی بھیڑ کے بعد سے ہی سیاسی ماہرین اس بین الاقوامی کھلاڑی کے سیاست میں آنے کی قیاس آرائی کی جارہی تھی۔ گزشتہ دنوں شیئرسی سنگھ کے آرجے ڈی میں شامل ہونے کی خبریں آئی تھیں۔ بتایا جارہا تھا کہ وہ آرجے ڈی کے ٹکٹ پر اسمبلی کا الیکشن لڑ سکتی ہیں، لیکن آج شیئرسی سنگھ کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد یہ قیاس آرائیاں ختم ہوگئیں۔ اس موقع پر بہارکے انتخابی انچارج اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، بہار کے انچارج جنرل سکریٹری بھوپیندر یادو اور جنرل سکریٹری ارون سنگھ بھی موجود تھے۔ سمجھا جاتا ہے کہ نیشنل شوٹر شیئرسی سنگھ بانکہ کے امرپور سیٹ یا پھر جموئی اسمبلی سیٹ سے انتخاب لڑسکتی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ شیئرسی نیشنل شوٹر ہیں۔




واضح رہے کہ شیئرسی سنگھ نے ہندوستان کی طرف سے کھیلتے ہوئے 2018 کے دولت مشترکہ کھیلوں میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ اس سے قبل گلاسگو میں ہوئے 2014 دولت مشترکہ کھیلوں میں نشانے بازی کے ڈبل ٹریپ مقابلے میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 04, 2020 11:51 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading