ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاہین باغ: پانچ ماہ کے بعد کھلے شوروم، لیکن صارفین غائب

دہلی کے شاہین باغ میں گزشتہ پانچ مہینے سے بند دوکانیں چوتھے لاک ڈاؤن میں ملی رعایت کے ساتھ کھل گئی ہیں، لیکن اب دکانداروں کو بھاری مندی اور کسادبازاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

  • Share this:
شاہین باغ: پانچ ماہ کے بعد کھلے شوروم، لیکن صارفین غائب
شاہین باغ: پانچ ماہ کے بعد کھلے شوروم لیکن  صارفین غائب

نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کے شاہین باغ میں گزشتہ پانچ مہینے سے بند دوکانیں چوتھے لاک ڈاؤن میں ملی رعایت کے ساتھ کھل گئی ہیں، لیکن اب دکانداروں کو بھاری مندی اور کسادبازاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اب ان دکانداروں کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ عید کے موقع پر جو کسادبازاری دکھائی دی، اس میں ان کے شوروم اور دکانوں کا خرچہ کیسے پورا ہوگا۔ شاہین باغ کے سرکردہ ارکان دیگر روڈ پر سینکڑوں کی تعداد میں شوروم ہیں یہاں پر باٹا، ٹاٹا، ریمنڈ سے لے کر ہر بڑی کمپنی کے شوروم ہیں۔


بہترین لوکیشن ہونے کی وجہ سے یہاں پر خریداری کے لیے لوگ بھی خوب آتے ہیں، لیکن گزشتہ پانچ مہینوں سے یہاں کے حالات حالات بدترین ہیں۔ حالانکہ موجودہ وقت عید کی خریداری کا ہے، لیکن پھر بھی یہاں پر صارفین پوری طرح سے غائب ہیں۔ حالات اتنے زیادہ خراب ہیں کہ یہاں پرصرف 10 فیصد دکانیں ہی کھل رہی ہیں۔ دراصل شہریت قانون کے خلاف خواتین کی تحریک کا مرکز بنے اس علاقے میں 15 دسمبر سے تین مہینے تک تمام شوروم سیکورٹی کے مد نظر بند رہے۔


گزشتہ پانچ مہینوں سے شاہین باغ کے حالات بدترین ہیں۔
گزشتہ پانچ مہینوں سے شاہین باغ کے حالات بدترین ہیں۔


دہلی پولیس کی لاکھ کوششوں کے باوجود شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والے مظاہرین کو شاہراہ سے نہیں اٹھایا جا سکا اور جب 105 دن کے بعد شہریت قانون کے خلاف احتجاج ختم ہوا تو کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہوگیا گزشتہ دو مہینے سے لوگ ڈاؤن کی وجہ سے یہاں پر دکانیں بند پڑی تھی اب دکانیں کھل گئی ہیں، لیکن حالات  میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یہاں پر ریمنڈ شوروم چلانے والے محمد انصار نے بتایا کہ ہم پہلے جس پریشانی کا سامنا کر رہے تھے اب دوکان کھل جانے کے بعد بعد امید تھی کہ حالات بدل جائیں گے، لیکن یہاں پر ہر وقت سناٹا چھایا رہتا ہے صارفین کا دور دور تک پتہ نہیں ہے۔ یہاں تک عید کی خریداری بھی نہیں کی گئی ہے۔

گزشتہ تین دنوں میں ہم نے صرف تین ہزار روپئے کی سیل کی ہے۔ صارفین کے نہ آنے کی وجہ سے صرف 10 فیصد دکانیں ہی یہاں پر کھل رہی ہیں ایک دوسرے دوکاندار میں میں یہ کہتے ہوئے اپنا درد بیان کیا کہ سرکار کو بجلی بل اور اسٹاف کو تنخواہ دینے کے معاملے میں ہماری مدد کرنی چاہئے کیونکہ ابھی پتہ نہیں کہ حالات کب  تک پوری طرح سے پٹری پر لوٹیں گے۔

غور طلب ہے کہ ملک میں لاک ڈاؤن 23مارچ سے کیا گیا، لیکن  شاہین باغ کے ان دکانداروں کے لیے لاک ڈاؤن 15 دسمبر سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے لیے ان دکانوں کے سامنے کی شاہراہ کو ہی مرکز بنایا گیا۔ خواتین  نے 100 دنوں سے زیادہ یہاں پر اپنی تحریک چلائی، لیکن لیکن اس علاقے میں تجارتی سرگرمیاں اب بھی کساد بازاری کا شکار ہیں  اور معلوم نہیں کہ حالات یہ کب تک رہیں گے۔
First published: May 26, 2020 05:59 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading