உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Assembly Elections 2022: ڈومریا گنج کے بی جے پی امیدوار کو لگا بڑا جھٹکا، الیکشن کمیشن نے تشہیر پر لگائی 24 گھنٹے کی پابندی

    ڈومریا گنج کے بی جے پی امیدوار کی انتخابی تشہیر پر الیکشن کمیشن نے لگائی 24 گھنٹے کی پابندی

    ڈومریا گنج کے بی جے پی امیدوار کی انتخابی تشہیر پر الیکشن کمیشن نے لگائی 24 گھنٹے کی پابندی

    UP Election 2022: یوپی اسمبلی انتخابات کے دوران سدھارتھ نگر کی ڈومریا گنج سیٹ سے الیکشن لڑ رہے بی جے پی امیدوار راگھویندر پرتاپ سنگھ (BJP MLA Raghvendra Singh) کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ الیکشن کمیشن نے متنازعہ بیان کے سبب ان کے ذریعہ 24 گھنٹے تک انتخابی تشہیر کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں وہ کہہ رہے تھے کہ جو ہندو مجھے ووٹ نہیں دیں گے، ان کی رگوں میں مسلم خون ہے۔ مجھے بے عزت کروگے تو بھی برداشت کرلوں گا، لیکن ہمارے ہندو سماج کی توہین کرنے کی کوشش کروگے تو برباد کرکے رکھ دوں گا۔

    • Share this:
      سدھارتھ نگر: یوپی اسمبلی انتخابات کے دوران سدھارتھ نگر کی ڈومریا گنج سیٹ سے الیکشن لڑ رہے بی جے پی رکن اسمبلی اور امیدوار (BJP MLA Raghvendra Singh) راگھویندر پرتاپ سنگھ کو الیکشن کمیشن (Election Commission) نے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ متنازعہ بیان کے لئے الیکشن کمیشن نے ان کے اوپر 24 گھنٹے کی پابندی عائد کردی ہے۔ اس دوران وہ کہیں بھی انتخابی تشہیر نہیں کرسکیں گے۔

      الیکشن کمیشن کے مطابق، بی جے پی امیدوار پر یہ پابندی پیر کی صبح 6 بجے سے 24 گھنٹے تک جاری رہے گی۔ اس دوران راگھویندر پرتاپ سنگھ تشہیر نہیں کرسکیں گے۔ وہیں ڈسٹرکٹ الیکشن افسر/ ڈی ایم دیپک مینا نے اس بات کی جانکاری دی ہے۔ وہیں پابندی لگنے کے بعد بی جے پی امیدوار نے فیس بک پر لکھا، ’مخالفین کی سازش سے ہمیں 24 گھنٹے تک تشہیر کرنے سے الیکشن کمیشن کے ذریعہ روکا گیا ہے، لیکن اس سازش کا جواب آنے والے تین مارچ کو ڈومریا گنج کے قوم پرست، ہندوتوا عوام ضرور دیں گے۔

      بی جے پی امیدوار کا ایک ویڈیو وائرل

      ڈومریا گنج کے رکن اسمبلی راگھویندر پرتاپ سنگھ کا گزشتہ دنوں ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا تھا۔ اس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا ہے۔ ویڈیو میں وہ کہہ رہے تھے کہ جو ہندو مجھے ووٹ نہیں دیں گے، ان کی رگوں میں مسلم خون ہے۔ وہیں الیکشن کمیشن سے نوٹس ملنے کے بعد رکن اسمبلی نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے کچھ دن پہلے یہ تبصرہ کیا تھا، لیکن ایک مثال کے طور پر کہا گیا تھا اور ان کا کسی کو بھی دھمکی دینے کا کوئی ارادہ نیہں تھا‘۔ وہیں، انہوں نے کہا کہ کیا کوئی ڈومریا گنج میں دھمکی دے کر الیکشن جیت سکتا ہے، جہاں تقریباً 1.73 لاکھ مسلم رائے دہندگان ہیں، جن کا فیصد تقریباً  39.8 ہے۔

      وائرل ویڈیو کلپ میں وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے بتاو، کیا کوئی مسلم مجھے ووٹ دے گا؟ تو دھیان رہے کہ اگر اس گاوں کے ہندو دوسرے فریق کی حمایت کرتے ہیں تو ان کی رگوں میں مسلم خون ہے۔ وہ ملک مخالف ہیں۔ ایک بار اگر وارننگ دینے کے ساتھ سمجھ میں نہیں آئے گا تو اس بار میں بتا دوں گا کہ راگھویندر سنگھ کون ہے۔ ساتھ ہی کہا کہ میرے ساتھ غداری کروگے تو چلے گا، میں توہین برداشت کرلوں گا، مجھے بے عزت کرو گے تو بھی میں توہین برداشت کرلوں گا، لیکن ہمارے ہندو سماج کو بے عزت کرنے کی کوشش کرو گے تو برباد کرکے رکھ دوں گا۔ ڈومریا گنج کے رکن اسمبلی یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ تشکیل کی گئی ہندو یوا واہنی کے انچارج بھی ہیں۔ حالانکہ عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور یوپی کے انچارج سنجے سنگھ نے الیکشن کمیشن سے بی جے پی امیدوار کے الیکشن لڑنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: