کشمیری لڑکیوں کے لئے فرشتے بنے دہلی کے یہ ’ بجرنگی بھائی جان‘۔

دہلی کے ان تینوں دوستوں نے نیوز 18 کو بتایا کہ یہ لڑکیاں پہلی بار اپنا گھر چھوڑ کر کشمیر سے باہر آئی تھیں۔ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد کشمیر کے ماحول کو لے کر وہ کافی ڈری ہوئی تھیں۔ ان کو لگ رہا تھا کہ ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔

Aug 18, 2019 06:19 PM IST | Updated on: Aug 18, 2019 06:21 PM IST
کشمیری لڑکیوں کے لئے فرشتے بنے دہلی کے یہ ’ بجرنگی بھائی جان‘۔

فوٹو کریڈٹ: سوشل میڈیا

جموں وکشمیر کی 32 طالبات کو صحیح سلامت ان کے گھر پہنچانے کی ذمہ داری اٹھانے والے سکھ برادری کے تین دوستوں کی کہانی سوشل میڈیا پر خوب تعریفیں بٹور رہی ہے۔ کوئی انہیں 32 طالبات کے لئے فرشتہ بتا رہا ہے تو کوئی فلم بجرنگی بھائی جان کا کردار یاد دلا رہا ہے جس میں سلمان خان( بجرنگی بھائی جان) جان کو جوکھم میں ڈال کر پاکستان کی ایک بچی کو گھر پہنچاتے ہیں۔ سوشل میڈیا ہی نہیں کشمیر میں تعینات فوجی افسران نے بھی ان تین دوستوں کے جذبہ کی ستائش کی ہے۔

جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد نرسنگ کی پڑھائی کر رہیں 32 لڑکیاں سوشل میڈیا پر کشمیریوں کو لے کر وائرل میسیج کی وجہ سے خوف زدہ تھیں۔ بری طرح سے ڈریں یہ لڑکیاں کسی بھی قیمت پر اپنے گھر واپس جانا چاہتی تھیں، لیکن کشمیر کے حالات ایسے نہیں تھے کہ وہ واپس لوٹ پاتیں۔ ایسے میں ایک فیس بک پوسٹ پڑھ کر ان لڑکیوں نے ان لوگوں سے رابطہ قائم کیا۔

Loading...

دہلی کے تین دوست ہرمیندر سنگھ اہلووالیا، ارمیت سنگھ اور بلجیت سنگھ ببلو آگے آئے اور ان کو صحیح سلامت ان کے گھر پہنچایا۔

نیوز 18 انڈیا کا اسکرین شاٹ نیوز 18 انڈیا کا اسکرین شاٹ

دہلی کے ان تینوں دوستوں نے نیوز 18 کو بتایا کہ یہ لڑکیاں پہلی بار اپنا گھر چھوڑ کر کشمیر سے باہر آئی تھیں۔ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد کشمیر کے ماحول کو لے کر وہ کافی ڈری ہوئی تھیں۔ ان کو لگ رہا تھا کہ ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے نیوز 18 کو بتایا ’’ ہم نے ہر قیمت پر ان کو ان کے گھر محفوظ طور پر پہنچانے کا ذمہ اٹھایا اور چندہ جمع کر ان کے لئے فلائٹ کے ٹکٹ خریدے۔ لیکن اگلا چیلنج اور بھی بڑا تھا، کیونکہ پورے کشمیر میں فون، انٹرنیٹ سب بند تھا اور حالات کے مدنظر کہیں آنا جانا بھی آسان نہیں تھا‘‘۔ حالانکہ ان لوگوں نے حالات کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ پہلے سبھی 32 لڑکیوں کو دہلی اور پھر وہاں سے سری نگر پہنچایا گیا۔ کئی لڑکیاں شوپیاں اور دوسرے اضلاع سے تھیں اور انہیں بھی ایک ایک کر کے ان کے گھر پہنچایا گیا۔

ماں باپ بھی کشیدگی کے اس ماحول میں اپنے بچوں کے تحفظ کو لے کر پریشان تھے۔ ایسے میں جب وہ ان کے سامنے آئیں تو انہوں نے فورا انہیں گلے لگا لیا۔

Loading...