உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Single Use Plastic Ban: سنگل یوز پلاسٹک ختم کرنے کیلئے مرکزی سرکار نے ریاستوں کو لکھا خط

    Single Use Plastic Ban: سنگل یوز پلاسٹک ختم کرنے کیلئے مرکزی سرکار نے ریاستوں کو لکھا خط

    Single Use Plastic Ban: سنگل یوز پلاسٹک ختم کرنے کیلئے مرکزی سرکار نے ریاستوں کو لکھا خط

    Single Use Plastic Ban: ہندوستان کے 4700 اربن لوکل باڈیز میں سے صرف 2500 نے ایک جولائی تک سنگل یوز پلاسٹک ( ایس یوپی) پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : ہندوستان کے 4700 اربن لوکل باڈیز میں سے صرف 2500 نے ایک جولائی تک سنگل یوز پلاسٹک ( ایس یوپی) پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں زیادہ دھیان نہیں دئے جانے پر رہائش اور شہری معاملات کی وزارت کو انہیں سنگل یوزر پلاسٹک کو مرحلہ وار طریقہ سے ختم کرنے اور اسے وسیع تر کلین اینڈ گرین ایجنڈے میں رول ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : گیان واپی کو لے کر RSS سربراہ موہن بھاگوت کے بیان پر جماعت اسلامی نے کہی یہ بڑی بات


      عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر وزارت نے ہفتہ کو کہا کہ "مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) اور وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (MoEF&CC) کے مطابق 4,704 ULBs میں سے 2,591 نے پہلے ہی SUP پابندی کے نوٹیفکیشن کی اطلاع دی ہے۔ لہذا، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ بقیہ 2,100 پلس یو ایل بی 30 جون تک اسے نوٹیفائی کریں۔"

      سووچھ بھارت مشن – شہری 2.0 کے تحت، پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ، جس میں ایس یو پی کا خاتمہ شامل ہے، توجہ کا ایک اہم شعبہ ہے۔ وزارت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو متعدد سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے ایک تفصیلی ایڈوائزری بھی جاری کی ہے جس میں پلاسٹک کے کچرے کو جمع کرنے پر خصوصی زور دینے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر درخت لگانے کی مہم سمیت صفائی اور پلاگنگ مہم شروع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے : J&K News: ٹارگٹ کلنگ کیلئے ہائبریڈ دشت گردوں کو استمال میں لایا جارہا ہے: انٹلی جنس ذرائع


      سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایڈوائزری بڑے پیمانے پر لوگوں کی شرکت پر زور دیتی ہے، جہاں سبھی شہریوں کے زمرے - منتخب نمائندے جیسے میئرز اور وارڈ کونسلرز، رضاکارانہ تنظیمیں، مقامی این جی اوز، ریسیڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن، مارکیٹ ایسوسی ایشن، سیلف ہیلپ گروپس، طلبہ اور نوجوانوں کے گروپ وغیرہ شامل ہیں۔

      ایس یو پی پر پابندی اور نفاذ کے پیغام کو آگے بڑھانے کے لیے سبھی کو ایک ساتھ مل کر بیداری بڑھانے کی ضرورت ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: