عدالت عظمی شہریوں کےحقوق کے تحفظ کویقینی بنائے: ایس آئی اوکا مطالبہ

ایس آئی اوحکومت وقت سے مطالبہ کرتی ہےکہ جب تک حتمی تعین نہیں ہوجاتا، وہ 1.9 ملین عوام کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دے۔ ہندوستان اس بات کو یقینی بنانےکا قانونی و اخلاقی طورپرپابند ہے کہ ریاستی حکام کی غلطیوں اور تذبذب کا شکارہوکرہندوستان کا کوئی شہری بے ریاست نہ ہو

Sep 01, 2019 07:54 PM IST | Updated on: Sep 02, 2019 08:22 AM IST
عدالت عظمی شہریوں کےحقوق کے تحفظ کویقینی بنائے: ایس آئی اوکا مطالبہ

ایس آئی او کے قومی صدر لبید شافی: فائل فوٹو

نیشنل رجسٹرآف سیٹیزنس کی حتمی فہرست جاری ہونے پر، اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کےقومی صدرلبید شافی نےاس بات پر تشویش کا اظہارکیا کہ 1.9 ملین شہری بے ریاست ہوجانےکے دہانے پرہیں۔ انہوں نےکہا کہ این آرسی کی تجدید کاری کےعمل نےعام نوکرشاہوں کوغیرمعمولی اختیارات فراہم کردیئے ہیں۔ مزید یہ کہ تجدید کاری کا یہ عمل عدم شفافیت اورشہریوں کےاخراج کی دانستہ کوششوں سے بھرپوررہا ہے۔

ایس آئی اوکا کہنا ہے کہ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہورہا ہےکہ ایک ریاست نے ایک عام نوکرشاہی عمل کےذریعہ اپنے ہی 1.9 ملین شہریوں کےحقوق کو خطرے میں ڈال دیا ہے.  فارینرس ٹریبونل کےسامنےاپیل کرنےکےلئےمحض 120 دن کی مہلت فراہم کرنا بجائے خود اس عمل کی شفافیت پرسوالات کھڑے کرتا ہے۔

Loading...

ایس آئی او کہنا ہے کہ فارینرس ٹریبونل اپنے آپ میں کوئی عدالتی عمل نہیں ہے نیزاس کی سربراہی وہ افراد کررہے ہیں جوخود حکومت ہی کی جانب سے مقررکردہ ہیں۔ بند کمروں میں بیٹھ کرچند افراد کےذریعہ عوام کی قسمت کا فیصلہ کیا جانا ناقابل قبول ہے، کیوں کہ یہ شہری حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایس آئی اوحکومت وقت سے مطالبہ کرتی ہےکہ جب تک حتمی تعین نہیں ہوجاتا، وہ 1.9 ملین عوام کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دے۔ ہندوستان اس بات کو یقینی بنانےکا قانونی و اخلاقی طورپرپابند ہے کہ ریاستی حکام کی غلطیوں اور تذبذب کا شکارہوکرہندوستان کا کوئی شہری بے ریاست  نہ ہو۔

Loading...