உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh: سرسید احمد خان کے تعلیمی افکار کونئی معنویت دینے کی ضرورت، بھوپال میں شجر کاری کا اہتمام

    سرسید احمد خان کے تعلیمی افکار کونئی معنویت دینے کی ضرورت

    سرسید احمد خان کے تعلیمی افکار کونئی معنویت دینے کی ضرورت

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی، ممتاز ماہر تعلیم، مفکر، مدبرومصلح قوم سرسید احمد خان کی 124ویں یوم وفات کے موقع پر بھوپال میں شجرکاری پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔

    • Share this:
    بھوپال: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی، ممتاز ماہر تعلیم، مفکر، مدبرومصلح قوم سرسید احمد خان کی 124ویں یوم وفات کے موقع پر بھوپال میں شجرکاری پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ مدھیہ پردیش سرو دھرم سد بھاؤنا منچ کے زیر اہتمام یاد سر سید احمد خان کے تحت منعقدہ شجرکاری پروگرام میں سبھی مکتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی اور سرسید احمد خان کے افکارو نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے تعلیمی افکارکو عام کرنے اور ان کے تعلیمی مشن پر چلنے کی تلقین کی گئی۔
    سدبھاؤنا منچ بھوپال کے سکریٹری حافظ محمد اسمعیل نے سرسید احمد خان کے افکار و نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سر سید کا بھوپال سے خاص تعلق تھا۔ سرسید اپنے مشن کی آبیاری کے لئے بھوپال آئے اور یہاں کی بیگمات نے سر سید کے مشن کو پروان چڑھانے میں بنیاد کا کردار ادا کیا۔

    بھوپال اقبال میدان میں کی شجرکاری کے اختتام پر دعا کی گئی اور سر سید احمد خان کے تعلیمی مشن کو عام کرنے کے لئے ریاست گیر سطح پر تعلیمی بیداری پروگرام کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔
    بھوپال اقبال میدان میں کی شجرکاری کے اختتام پر دعا کی گئی اور سر سید احمد خان کے تعلیمی مشن کو عام کرنے کے لئے ریاست گیر سطح پر تعلیمی بیداری پروگرام کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔


    نواب سلطان جہاں اور نواب حمید اللہ خاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چانسلر بھی رہے ہیں۔ سر سید نے ڈیڑھ سو سال قبل ہندستانیوں بالخصوص مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کا جوخواب دیکھا تھا، اس کی معنویت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے او رہمیں بھی چاہئے کہ ہم سرسید کے تعلیمی افکار کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    بھوپال میں اردو صحافت کے 200 سالہ جشن، ہندوؤں نے ڈالی تھی ملک میں اردو صحافت کی بنیاد

    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے پریس سکریٹری حاجی محمد عمران نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرسید احمد خان تھے تو آج قوم کے لوگ یہاں پر ہیں اور اگر سر سید نہیں ہوتے تو مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سر سید نے مسلمانوں کے ایک ہاتھ میں قران دوسرے میں فلسفہ اور سر پہ کلمہ طیبہ کا تاج ہونے کا جو خواب دیکھا تھا اسی کو پورا کرنے کی ضرورت ہے اور اسی میں ہندوستان کا مستقبل ہے۔

    بھوپال اقبال میدان میں کی شجرکاری کے اختتام پر دعا کی گئی اور سر سید احمد خان کے تعلیمی مشن کو عام کرنے کے لئے ریاست گیر سطح پر تعلیمی بیداری پروگرام کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: