உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سر سید احمد خان کے تعلیمی نظریہ کو ملک و قوم کے لئے نسخہ کیمیا سے تعبیر کیا گیا

    سر سید احمد خان کے تعلیمی نظریہ کو ملک و قوم کے لئے نسخہ کیمیا سے تعبیر کیا گیا

    سر سید احمد خان کے تعلیمی نظریہ کو ملک و قوم کے لئے نسخہ کیمیا سے تعبیر کیا گیا

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان کی 204 ویں یوم ولادت کے موقع پر بھوپال کوہ فضا کے میزبان ہال میں قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے بینرتلے منعقدہ قومی سمینار میں ملک کے ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور سر سید کے نظریہ تعلیم کو ملک و قوم کے لئے نسخہ کیمیا سے تعبیر کرتے ہوئے اس کے علی نفاذ کو وقت کی ضرورت سے تعبیر کیا۔

    • Share this:
    بھوپال: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان کی 204 ویں یوم ولادت کے موقع پر بھوپال کوہ فضا کے میزبان ہال میں قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے بینرتلے منعقدہ قومی سمینار میں ملک کے ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور سر سید کے نظریہ تعلیم کو ملک و قوم کے لئے نسخہ کیمیا سے تعبیر کرتے ہوئے اس کے علی نفاذ کو وقت کی ضرورت سے تعبیر کیا۔ ممتاز سائنس داں ڈاکٹر منوج شرما نے سمینار میں اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سر سید قومی یکجہتی کے علمبردار ہونے کے ساتھ وقت کے نباض تھے۔

    انہوں نے فرسودہ تعلیمی نظریہ کو ترک کرکے عصری علوم کے حصول کے لئے جو نسخہ کیمیا عطا کیاتھا یہ اسی کا فیضان ہے کہ نہ صرف مسلمان بلکہ دوسری قوم کے لوگوں نےبھی بلا لحاظ قوم و ملت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرکے ملک کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

    سمینار میں مقالہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر آفاق ندیم نے سر سید کی تعلیم نظریہ کے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تربیت کی انفرادیت کو خصوصیت کے ساتھ پیش کیا جبکہ ڈاکٹر شیلی مشرا نے سر سید کے مشن کی آبیاری میں رسالہ تہذیب الاخلاق کی خصوصیت کو پیش کیا جبکہ ڈاکٹر مہتاب عالم نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سر سید احمد خان تھے، تو آج ہم لوگ ہیں اگر سر سید نےسائنسی علوم کا نیا نظریہ ملک کو نہیں دیا ہوتا تو ہم جیسے طالب علموں کا وجود بھی نہیں ہوتا۔

    ڈاکٹر مہتاب عالم نے 1875 میں سر سید احمد خان کے ذریعہ ملک میں کرائے گئے تعلیمی صورتحال کاسروے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں ہندو گریجویٹس کی تعداد 715 اور پوسٹ گریجوایٹس ہندو کی تعداد 131  تھی جبکہ مسلمانوں میں 17گریجویٹ اور تین پوسٹ گریجویٹ ہی تھے۔ آج ملک میں جو لاکھوں کی تعداد میں مسلم گریجویٹ دکھائی دیتے ہیں اس کا فیضان سر سید احمد خان کو جاتا ہے۔

    ممتاز سائنس داں ڈاکٹر تنسیم حبیب نے سمینار میں سر سید کے تعلیمی افکار کی معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے سر سید کی تعلیمی تحریک پر از سر نو کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ چھتیس گڑھ کے سابق ڈی جی پی ایم ڈبلیو انصاری نے سر سید کے نقطہ نظر کو عام کرنے ان کے غیر مسلم رفقا کی قربانیوں پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر محمد اعظم نے سر سید کی اردو خدمات اور ڈاکٹر آصفہ یاسمین نے تعلیم نسواں کے حوالے سے اپنا مقالہ پیش کرکے خواتین کی ترقی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کردار کو پیش کیا۔

    مقالہ نگاروں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور سر سید کے حوالے سے بھوپال کے خصوصی رشتہ کو بھی پیش کیا۔ نوابین  بھوپال نے سر سید کی تعلیم کی تحریک کی نہ صرف ہر قدم پر معاونت کی بلکہ نواب سلطان جہاں بیگم والی بھوپال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی نہ صرف پہلی خاتون چانسلر تھیں بلکہ تاحیات چانسلر رہ کر جوخدمات انجام دی تھیں وہ بے مثل ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: