پہلوخان موب لنچنگ معاملہ: ایس آئی ٹی نے تسلیم کی جانچ میں خامی، سرکاری وکیل نے عدالت میں موبائل نہیں کیا پیش

راجستھان کےالورمیں سرخیوں میں رہنے والے پہلوخان موب لنچنگ معاملے میں جانچ کررہی ایس آئی ٹی نے اب تک کی جانچ میں خامی ہونے کی بات کہی ہے۔

Sep 02, 2019 04:06 PM IST | Updated on: Sep 02, 2019 04:21 PM IST
پہلوخان موب لنچنگ معاملہ: ایس آئی ٹی نے تسلیم کی جانچ میں خامی، سرکاری وکیل نے عدالت میں موبائل نہیں کیا پیش

پہلو خان موب لنچنگ معاملے میں راجستھان حکومت نے پھرسے جانچ کرائی ہے۔

راجستھان کےالورمیں سرخیوں میں رہنے والے پہلوخان موب لنچنگ معاملے میں جانچ کر رہی ایس آئی ٹی نےاب تک کی جانچ میں خامی ہونےکی بات کہی ہے۔ ساتھ ہی ملزمین کے عدالت سے بری ہونے کےپیچھے ایک بڑی وجہ سرکاری وکیل کا ٹھیک سے پیروی نہ کرنا بھی بتایا ہے۔ ایس آئی ٹی نےکہا کہ پہلوخان کی پٹائی کا ویڈیوجس موبائل سے بنایا گیا، اسے پولیس نےضبط کیا تھا اورویڈیو کی تصویریں چارج شیٹ پربھی چسپاں کی تھیں۔ اس کے باوجود سرکاری وکیل نےاسےعدالت میں بطورثبوت پیش ہی نہیں کیا۔

پہلوخان موب لنچنگ معاملےمیں سبھی 6 ملزمین کوبری کرنےکےعدالت کے فیصلےکےبعد راجستھان حکومت کی طرف سےتشکیل کی گئی ایس آئی ٹی نے جانچ پوری کرکے رپورٹ تیارکرلی ہے۔ ایس آئی ٹی آج ہی (دو ستمبر 2019) کورپورٹ سونپے گی۔

Loading...

موبائل کوعدالت میں نہیں کیا پیش

ایس آئی ٹی نے جانچ میں پایا کہ پہلوخان کی پٹائی کے بعد دوویڈیوسامنےآئےتھے۔ پولیس نے اس موبائل کوبھی جانچ کےدوران ضبط کرلیا تھا، جس سےویڈیوبنایا گیا تھا۔ اس کےباوجود موبائل کوعدالت میں بطورثبوت پیش نہیں کیا گیا تھا۔ ایس آئی ٹی کوموبائل پولیس تھانےکے مال خانے میں ملا۔

وکیل نہیں کرپائے پیروی

ایس آئی ٹی نے جانچ میں تسلیم کیا کہ جانچ افسرنےبطورثبوت ویڈیوکوفوٹو بناکرچارج شیٹ پرلگائے تھے، لیکن اس تصویرکےساتھ ایف ایس ایل کےذریعہ دیئےگئےسرٹیفکیٹ کوشامل نہیں کیا گیا تھا۔ ایس آئی ٹی کی جانچ میں سامنےآیا کہ حادثہ کےآئندہ روزصبح تین بجکر50 منٹ پرمعاملہ درج کرلیا گیا تھا، لیکن عدالت میں سماعت کے دوران 3:50 اے ایم کی جگہ 3:50 پی ایم مانا گیا۔ عدالت نےاس بنیاد پرمعاملہ 16 گھنٹے بعد درج ہونا مانا۔ ایس آئی ٹی کا ماننا ہےکہ ایسا اے ایم  (صبح) کی جگہ پی ایم (شام) ماننےسے ہوا۔ اس کےعلاوہ وکیل کے ذریعہ عدالت میں اس معاملےمیں صحیح طریقے سے پیروی نہ کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔

پہلوخان نے جونام بتائے وہ کس بنیاد پربتائے

ایس آئی ٹی نے پایا کہ ٹرائل کےدوران سرکاری وکیل یہ ثابت نہیں کرپائے کہ پہلو خان کے بیانات کی بنیاد پرجن لوگوں کے نام ایف آئی آرمیں لکھےگئےتھے، ان کوجانچ کےدوران کیوں ہٹایا گیا تھا؟ جہاں مارپیٹ ہوئی تھی، وہاں پہلو خان کسی کونہیں جانتا تھا۔ ایسے میں پہلو خان نے جونام بتائے وہ کس بنیاد پربتائے تھے؟

Loading...