ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

چین بارڈر پر ’چھ نئی آنکھوں’ سے نگرانی کرے گی ہندوستانی فضائیہ، DRDO بنائے گا اواکس طیارہ

AEW&C Block 2 Aircraft کی ترقی  کے لئے ڈی آرڈی او ایئر انڈیا کے طیاروں کو ایکوائر کرے گا۔ پھر انہیں ایک یوروپین کمپنی کے پاس بھیجا جائے گا، جہاں ان میں سدھار کرکے رڈار قائم کئے جائیں گے۔

  • Share this:
چین بارڈر پر ’چھ نئی آنکھوں’ سے نگرانی کرے گی ہندوستانی فضائیہ، DRDO بنائے گا اواکس طیارہ
چین بارڈر پر ’چھ نئی آنکھوں’ سے نگرانی کرے گی ہندوستانی فضائیہ، DRDO بنائے گا اواکس طیارہ

AEW&C Block 2نئی دہلی: چین (China) اور پاکستان (Pakistan) سے متصل سرحد پر سرویلانس کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ہندوستان نے 6 نئے ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول پلین کی تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لئے ایئر انڈیا کے 6 نئے ایئر کرافٹ استعمال میں لئے جائیں گے۔ دفاعی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آرڈی او) ان طیاروں کی توسیع کی جائے گی اور اس سے دیسی دفاعی صنعت کو بھی فروغ ملنے کی امید ہے، ساتھ ہی 6 نئے سرویلانس ایئر کرافٹ ملنے کے بعد ہندوستانی فضائیہ کی سرویلانس صلاحیت میں زبردست اضافہ ہوگا۔ ماہرین اسے سرحد پر چھ نئی آنکھوں کے برابر دیکھ رہے ہیں۔


سرکاری ذرائع کے حوالے سے اے این آئی نے جانکاری دی ہے کہ AEW&C بلاک 2 ایئر کرافٹ کی ترقی ڈی آر ڈی او کے ذریعہ 10,500 کروڑ کے پروجیکٹ کے تحت کیا جائے گا۔ اس کے لئے ایئر انڈیا سے 6 ایئر کرافٹ ایکوائر کئے جائیں گے اور انہیں رڈار کے ساتھ اڑان بھرنے کے لئے موڈیفائیڈ کیا جائے گا۔ ان طیاروں کی تعمیر سے مسلح افواج کو 360 ڈگری سرویلانس صلاحیت کی توسیع کرنے میں مدد ملے گی۔


ذرائع کے مطابق، ’6 نئے AEW&C بلاک 2 ایئر کرافٹ آنکھوں کی نگرانی والے سرویلانس طیاروں کے مقابلے طاقتور ہوں گے اور دشمن کے علاقے میں اندر تک 360 ڈگری کوریج فراہم کریں گے۔ نئے طیاروں کی ترقی کے لئے ایئر انڈیا سے 6 طیاروں کو ایکوائر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یوروپین کمپنی سے 6 ایئربیس 330 ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ خریدنے کے منصوبے کو ملتوی کردیا گیا ہے۔


ڈی آر ڈی او (DRDO) نے پہلے 6 ایئربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (اواکس) کو ایئر بیس 330 ایئر کرافٹ پر توسیع کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے لئے بنگلورو میں سہولیات تیار کی جارہی تھیں۔ ذرائع نے کہا کہ منصوبے کے مطابق ایئر انڈیا کے 6 طیاروں کو یوروپین کمپنی کے پاس بھیجا جائے گا اور وہاں سدھار کے بعد ان طیاروں میں رڈار قائم کئے جائیں گے۔ اے این آئی کے مطابق، پروجیکٹ کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ ڈیفنس سیکٹر میں میک ان انڈیا اور آتم نربھر بھارت ابھیان (خود انحصار ہندوستان مہم) کو پرموٹ کیا جاسکے۔ AEW&C بلاک-1 پروجیکٹ پہلے ہی اپنی ڈیڈ لائن سے بہت تاخیر سے چل رہا ہے، حالانکہ اس طرح کے طیارے توسیع کرنے میں اپنے گہرے تجربے کے سبب ڈی آر ڈی او کا ایئر بورن اسٹڈیز لیب انہیں جلد از جلد پورا کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ہندوستانی فضائیہ کے پاس 3 فالکن اواکس سسٹم ہیں، جنہیں اسرائیل اور روس سے خرید کر توسیع کی گئی ہے۔ بلاک 1 سسٹم کے لئے جہاں اسرائیل سے رڈار خریدا گیا، وہیں روس کے الیوشن-76 ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ پر اسے فٹ کیا گیا۔

ڈی آر ڈی او کی طرف سے توسیع کی گئی دو آنکھوں والے طیاروں نے حالیہ کشیدگی کے دوران بہترین کام کیا اور دشمن کی سرحد میں اندر تک سرویلانس کوریج فراہم کی ہے۔ 6 نئے ’آئی ان دی اسکائی’ طیاروں کو ملک میں الگ الگ مقامات پر تعینات کیا جائے گا تاکہ پڑوسی ممالک سے متصل سرحد پر سرویلانس کا عمل موثر طریقے سے کام کرے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 16, 2020 08:40 PM IST