உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسقط۔کوچی فلائٹ سے اچانک نکلنے لگا دھواں، محفوظ نکالے گئے 141 مسافر

    Air India Muscat Cochin flight: موصولہ اطلاعات کے مطابق مسقط انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارے سے دھواں نکلنے کے بعد افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ جلد بازی میں مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔

    Air India Muscat Cochin flight: موصولہ اطلاعات کے مطابق مسقط انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارے سے دھواں نکلنے کے بعد افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ جلد بازی میں مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔

    Air India Muscat Cochin flight: موصولہ اطلاعات کے مطابق مسقط انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارے سے دھواں نکلنے کے بعد افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ جلد بازی میں مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی. اس وقت مسقط بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ایک بڑی خبر سامنے آرہی ہے جہاں بدھ کے روز مسقط سے کوچی جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز میں اچانک دھواں نکلنے لگا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق مسقط انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارے سے دھواں نکلنے کے بعد افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ جلد بازی میں مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔

      حکام کے مطابق طیارہ بدھ کی صبح کوچی کے لیے روانہ ہونے والا تھا لیکن اس سے پہلے ہی طیارے سے دھواں نکلنا شروع ہو گیا۔

      معلومات کے مطابق ایئر انڈیا کا طیارہ نمبر IX-442, VT-AXZ بدھ کو مسقط سے کوچی کے لیے روانہ ہونے والا تھا۔ اسی دوران طیارے سے دھواں نکلنا شروع ہوگیا جس کے بعد ایئرپورٹ پر موجود عملے نے جلد بازی میں طیارے میں سوار 141 مسافروں اور عملے کے 6 ارکان کو باہر نکالا جس سے لوگوں کی جانیں بچ گئیں۔ حالانکہ اس واقعے میں کچھ مسافروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

      الرٹ! کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھنے والے بھی دھیان دں، ورنہ لگ جائے گا 1 ہزار کا جھٹکا

      اسمرتی مندھانا نے توڑاجوس بٹلر کا ریکارڈ،سب سے زیادہ T20I رن بنانے والی 5ویں ہندستانی

      ذرائع کے مطابق ہو سکتا ہے کہ نجن کے  آئل سے آگ لگی ہو گی اور دھواں نکلا ہو گا۔ ویسے فی الحال اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ واضح ہو کہ ایئر انڈیا کے طیارے نمبر IX-442, VT-AXZ نے بدھ کو 11:30 بجے مسقط سے کوچی کے لیے اڑان بھرنا تھا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: