உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Tomato flu:کیرل میں تیزی سے بڑھ رہا ٹومیٹو فلو، اب تک 82 بچوں کو ہوا انفیکشن، پڑھیں کیا ہیں اس کی علامات

    چکن گونیا اور منکی پوکس کے بعد اب ٹومیٹو فلو سے پھیلی سراسیمگی۔

    چکن گونیا اور منکی پوکس کے بعد اب ٹومیٹو فلو سے پھیلی سراسیمگی۔

    Tomato flu: احمد آباد کی ایل جے یونیورسٹی کی محقق کوشیکا پٹیل نے کہا کہ ٹومیٹو فلو کا پہلا کیس اس سال 6 مئی کو کیرالہ کے کولم ضلع میں سامنے آیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Kerala | Delhi | North Goa | Maharashtra | Hyderabad
    • Share this:
      Tomato flu: کورونا اور مونکی پوکس وائرس کے بعد اب ملک میں ٹومیٹو فلو کے کیسیز بھی سامنے آرہے ہیں۔ کیرالہ میں اب تک 82 بچوں میں اس انفیکشن کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یہ حقیقت طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں سامنے آئی ہے۔

      گجرات کے محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سال 6 مئی سے جولائی کے درمیان 82 بچے ٹومیٹو فلو سے متاثر ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس بارے میں حکومت کیرالہ اور مرکزی وزارت صحت کی جانب سے ابھی تک کوئی معلومات نہیں دی گئی ہیں لیکن مضمون میں محققین نے کہا ہے کہ اس بیماری میں جلد پر سرخ نشانات ظاہر ہونے لگتے ہیں اور بڑے دھبے بھی نظر آتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی طرح کی علامات کورونا، چکن گونیا، ڈینگی اور مونکی پوکس انفیکشن میں بھی نظر آتی ہیں۔ سرخ چھالوں کی وجہ سے اسے ٹومیٹو فلو کا نام دیا گیا ہے۔

      انفلوائنزہ جیسے نظر آتی ہیں علامات
      گجرات کے ایل ایم کالج آف فارمیسی کے سینئر پروفیسرویویک پی چاوڈا نے کہا کہ اس بیماری میں تھکاوٹ، متلی، الٹی، اسہال، بخار، پانی کی کمی، جوڑوں کی سوجن، جسم میں درد اور عام انفلوئنزا جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اس تحقیق سے وابستہ سائنسدان ابھی تک یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جسم پر یہ علامات ظاہر ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Janmashtami 2022: مسلمانوں کا خاص تحفہ، مسلم طلبا نے خون دے کر بچائی ہندو بھائیوں کی جان

      یہ بھی پڑھیں:

      Ghaziabad: آبروریزی کے بعد قتل؟ گھرکے باہر سے 2 بچیوں کا اغوا، ایک کی لاش ملنے سے ہنگامہ

      انفیکشن کے اثر کی نہیں ہے جانکاری
      احمد آباد کی ایل جے یونیورسٹی کی محقق کوشیکا پٹیل نے کہا کہ ٹومیٹو فلو کا پہلا کیس اس سال 6 مئی کو کیرالہ کے کولم ضلع میں سامنے آیا تھا۔ ابھی تک اس انفیکشن کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں ہے، لیکن یہ زیادہ سنگین نہیں ہے اور اس میں جان کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم، وبا کے دوران، کوئی انفیکشن عام طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: