ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

مذہبی و سماجی تنظیموں کی وارننگ ، بہار میں این پی آر پر روک نہیں لگائی گئی تو نتیش حکومت کو بھگتنا پڑے گا خمیازہ

پریس کانفرنس میں امارت شرعیہ بہار، جمیعت علماء بہار، جماعت اسلامی، خانقاہ مجیبیہ، لوک تانترک جن پہل، خانقاہ منعمیہ، خانقاہ شاہ ارزانی، جمیعت اہل حدیث، مجلس خطبا و امامیہ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ، بہار رابطہ کمیٹی نے شرکت کی ۔

  • Share this:
مذہبی و سماجی تنظیموں کی وارننگ ، بہار میں این پی آر پر روک نہیں لگائی گئی تو نتیش حکومت کو بھگتنا پڑے گا خمیازہ
مذہبی و سماجی تنظیموں کی وارننگ ، بہار میں این پی آر پر روک نہیں لگائی گئی تو نتیش حکومت کو بھگتنا پڑے گا خمیازہ

این پی آر پر روک لگانے کی مانگ کو لیکر پٹنہ میں نصف درجن سے زیادہ مذہبی و سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر پریس کانفرنس کی ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مذہبی و سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے این پی آر پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ۔ سماجی تنظیموں نے واضح کیا کہ اگر اس تعلق سے حکومت کوئی کاروائی نہیں کرتی ہے ، تو آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخاب میں حکومت کواس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ این پی آر اور این آر سی کو لاگو نہیں کرنے کی بات کرکے عوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔


لوک تانترک جن پہل کے کنوینر ستیہ پال نارائن مدن کے مطابق حکومت کو عدالت جانے کا قانونی اختیار ہے ، لیکن نتیش کمار سیاسی اعلان کر کے اس سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف سیاسی اعلان سے ہم لوگ خوش نہیں ہوں گے ۔ نتیش کمار اگر واقعی اس سلسلے میں سنجیدہ ہیں ، تو عملی طور پر اس قانون کے خلاف عدالت جائیں ۔ ادھر خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سٹی کے سجادہ نشین مولانا ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی نے کہا کہ ہم لوگوں نے پہلے سے این پی آر کے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ دربھنگہ میں 23  فروری کو وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ این پی آر پرانے فارمیٹ یعنی 2010 کے مطابق ہونا چاہئے ۔ اگر اس تعلق سے حکومت سنجیدہ ہے ، تو پھر عوام کو گمراہ کرنے کی بجائے عملی اقدامت کرے ۔


پریس کانفرنس میں امارت شرعیہ بہار، جمیعت علماء بہار، جماعت اسلامی، خانقاہ مجیبیہ، لوک تانترک جن پہل، خانقاہ منعمیہ، خانقاہ شاہ ارزانی، جمیعت اہل حدیث، مجلس خطبا و امامیہ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ، بہار رابطہ کمیٹی نے شرکت کی ۔ واضح رہے کہ سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کے خلاف بہار کے مختلف ضلعوں میں خواتین کا احتجاج جاری ہے۔ ملک کا یہ پہلا قانون ہے ، جس کو لے کر اتنے بڑے پیمانے پر عوامی تحریک چلائی جا رہی ہے ۔ عوام کے احتجاج کے باوجود این پی آر کا عمل شروع ہونے والا ہے ۔ این پی آر، این آر سی کی ہی شروعات ہے ، ایسے میں ریاستی حکومت پر بھی سوال کھڑا ہوگیا ہے ، جس میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کہتے رہے ہیں کہ این آر سی لاگو نہیں ہوگا ۔


این پی آر کے معاملہ پر مذہبی تنظیموں کی ناراضگی کھل کر سامنے آرہی ہے ۔ مسلکی اختلافات بھول کر اب وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہورہے ہیں ۔ پٹنہ میں مذہبی و ملی تنظیموں کے رہنماؤں نے این آر سی کے خلاف موجودہ بجٹ اجلاس میں تجویز پاس کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی حکومت کو خبر دار کیا ہے کہ اگر اس تعلق سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تو وہ این پی آر کا مکمل بائیکاٹ کریں گے ۔
First published: Feb 24, 2020 09:36 PM IST