உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیتا پور میں علمائے کرام کا عجیب وغریب فرمان، ایک خاندان کا حقہ پانی بند، جانئے وجہ

    سیتا پور: علمائے کرام کا عجیب وغریب فرمان، ایک خاندان کا حقہ پانی بند

    سیتا پور: علمائے کرام کا عجیب وغریب فرمان، ایک خاندان کا حقہ پانی بند

    Social Boycott in Sitapur: خبرکے مطابق، دو علمائے کرام نے ایک عجیب وغریب فرمان جاری کرتے ہوئے ایک فیملی کے سماجی بائیکاٹ (Social Boycott) کا اعلان کردیا۔ دراصل، گھر سے ناراض ہوکر اپنی رشتہ داری میں گئی ایک خاتون پر عائد ہوئے عجیب وغریب الزامات کے بعد یہ فرمان جاری کردیا۔

    • Share this:
      سیتا پور: اترپردیش کے سیتا پور میں ایک عجیب وغریب معاملہ سامنے آیا ہے۔ خبرکے مطابق، دو علمائے کرام نے ایک عجیب وغریب فرمان جاری کرتے ہوئے ایک فیملی کے سماجی بائیکاٹ (Social Boycott) کا اعلان کردیا۔ دراصل، گھر سے ناراض ہوکر اپنی رشتہ داری میں گئی ایک خاتون پر عائد ہوئے الزامات کے بعد یہ فرمان جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق، خاتون اور اس کے گھر والوں کا حقہ پانی بند کرکے سماج سے باہر کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ اطلاع کے مطابق، اتنا ہی نہیں اپنی بات منوانے کے لئے سادے کاغذ پر لکھے گئے فرمان پر گاوں والوں کے دستخط بھی کرا لئے۔ فرمان نہ ماننے والوں پر بھی جرمانہ لگانے کا حکم سنایا گیا۔

      سیتا پور کے صدر تھانہ کے ایک گاوں میں حیران کردینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک خاتون نے تھانہ میں تحریر دے کر بتایا کہ فیملی میں معمولی تنازعہ کے بعد وہ ناراض ہوکر اپنی رشتہ داری میں چلی گئی تھی۔ کچھ دن بعد اس کی ماں اور بھائی وہاں پہنچے اور آپس میں سمجھوتہ ہونے کے بعد وہ بھائی کے ساتھ اپنے گھر واپس آگئی۔ گھر واپس آنے کے دو دن بعد گاوں میں اس سے متعلق غلط افواہیں پھیلا دی گئیں۔ متاثرہ کا الزام ہے کہ گاوں میں خبر پھیلائی گئی کہ وہ اپنے سگے بھائی کے ساتھ کہیں چلی گئی تھی، جبکہ ایسا نہیں تھا۔

      شرائط نہ ماننے والوں پر بھی لگے گا جرمانہ

      اس کا الزام ہے کہ گاوں کے ہی دو عالم دین نے گاوں والوں کے ساتھ مل کر اس کی اور  اس کی فیملی سے متعلق عجیب وغریب فرمان جاری کردیا۔ ایک سادے کاغذ پر کئی شرائط لکھ کر اس پر کئی گاوں والوں سے دستخط بھی کرالئے گئے، جس کے بعد اس کے اور اس کے گھر والوں کا سماجی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ حقہ پانی بند کرکے اس کی فیملی سے سبھی لوگوں کو رشتے ناطے ختم کرلینے کا علمائے کرام نے فرمان سنایا۔ شرائط یہاں تک رہیں کہ متاثرہ اور اس کی فیملی کو خوشی اور غم، کسی بھی موقع پر نہ بلایا جائے اور نہ ہی ان کی دعوت میں شامل ہوا جائے۔ اگر ان شرائط کی کوئی خلاف ورزی کرے گا تو اس کو بھی 10 ہزار روپئے کا مالی جرمانہ دینا ہوگا۔

      متاثرہ نے تھانے میں دی تحریر، پولیس تفتیش میں مصروف

      اطلاع کے مطابق، جب اس عجیب وغریب فرمان کی جانکاری متاثرہ اور اس کی فیملی کو ہوئی تو اس نے دونوں علمائے کرام کے خلاف تھانے میں تحریر دی ہے۔ اس بارے میں ایس او امت سنگھ بھدوریا نے بتایا کہ درخواست دی گئی ہے۔ کچھ لوگوں نے ایک خاتون اور اس کی فیملی کا حقہ پانی بند کرنے کو کہا ہے۔ معاملے میں کچھ لوگوں کو پوچھ گچھ کے لئے بلایا گیا ہے۔ جانچ کی جارہی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: