உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    این آر سی کے موضوع پر بنگال میں سماجی تنظیمیں بھی سرگرم، اٹھائیں گی یہ قدم

    این آر سی کے موضوع پر بنگال میں سماجی تنظیمیں بھی سرگرم، اٹھائیں گی یہ قدم۔ فائل فوٹو

    شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) ایسے میں سماجی تنظیموں نے بھی سرگرمی دکھاتے ہوئے آگے آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند بنگال شاخ کی جانب سے آج کولکاتا میں ریلی نکالی جارہی ہے اس ریلی کے لئے سیکورٹی کے انتظامات سخت کئے گئے ہیں۔

    • Share this:
    کولکاتا: مغربی بنگال میں شہریت ترمیمی قانون (Citizenship Amendment Act) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (National Register of Citizens) کو لے کر سیاسی بیان بازی کے ساتھ آئندہ کل سی اے اے و این ار سی کی مخالف  کررہی تنظمیں بھی سڑک پر اتریں گی۔ بنگال میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی الیکشن کے لئے سی اے اے اور این ار سی کا مدعا تیزی سے اٹھایا جارہا ہے۔ بی جے پی نے سی اے اے کے نافذ کا عمل آئندہ سال جنوی سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تو وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بھی بنگال میں این آر سی کو ناقابل قبول بتاتے ہوئے اس کی پرزور مخالفت کی ہے۔

    شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) ایسے میں سماجی تنظیموں نے بھی سرگرمی دکھاتے ہوئے آگے آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند بنگال شاخ کی جانب سے آج کولکاتا میں ریلی نکالی جارہی ہے اس ریلی کے لئے سیکورٹی کے انتظامات سخت کئے گئے ہیں۔ جماعت کے امیر حلقہ مولانا عبد الرفيق نے این آر سی پر ممتا بنرجی کی مخالفت کو اہم تو بتایا تاہم انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی لیڈر الیکشن کو سامنے رکھ کر بیان دے رہا ہے جبکہ لوگ اس موضوع کا مستقل حل چاہتے ہیں۔

    بنگال میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی الیکشن کے لئے سی اے اے اور این ار سی کا مدعا تیزی سے اٹھایا جارہا ہے۔ بی جے پی نے سی اے اے کے نافذ کا عمل آئندہ سال جنوی سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تو وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بھی بنگال میں این آر سی کو ناقابل قبول بتاتے ہوئے اس کی پرزور مخالفت کی ہے۔
    بنگال میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی الیکشن کے لئے سی اے اے اور این ار سی کا مدعا تیزی سے اٹھایا جارہا ہے۔ بی جے پی نے سی اے اے کے نافذ کا عمل آئندہ سال جنوی سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تو وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بھی بنگال میں این آر سی کو ناقابل قبول بتاتے ہوئے اس کی پرزور مخالفت کی ہے۔


    سیاسی جماعتیں بھی سی اے اے واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ایسے میں سیاسی بیان بازی کے بجائے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جماعت نے ریاست گیر سطح پر این آر سی مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بنگال ایسی ریاست ہے جس کے کئی اضلاع بنگلہ دیش سرحد سے متصل ہیں۔  یہاں کے لوگوں کو بنگلہ دیشی کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ این آر سی کے تعلق سے یہاں کے لوگوں میں پریشانی دیکھی جارہی ہے اور بنگال میں یہ تحریک ایک بار پھر سر اٹھانے کو تیار ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: