ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سونیا گاندھی سے کمل ناتھ نے کی ملاقات، یوپی میں اتحاد سے متعلق تبادلہ خیال، ایس پی-بی ایس پی پر نظریں: ذرائع

Sonia Gandhi-Kamalnath Meeting: کانگریس ریاست میں اپوزیشن کا کردار نبھا رہی سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ الیکشن لڑنے پر غور کر رہی ہے۔ وہیں دونوں پارٹیوں سے کمل ناتھ کے تعلقات کافی اچھے مانے جاتے ہیں۔

  • Share this:
سونیا گاندھی سے کمل ناتھ نے کی ملاقات، یوپی میں اتحاد سے متعلق تبادلہ خیال،  ایس پی-بی ایس پی پر نظریں: ذرائع
سونیا گاندھی سے کمل ناتھ نے کی ملاقات، یوپی میں اتحاد سے متعلق تبادلہ خیال، ایس پی-بی ایس پی پر نظریں: ذرائع

نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ (Kamal Nath) نے جمعرات کو کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی  (Sonia Gandhi) سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں اترپردیش اسمبلی انتخابات (UP Assembly Election) میں اتحاد سے متعلق تبادلہ خیال ہوا۔ خاص بات یہ ہے کہ اس میٹنگ میں سرگرم کردار نبھا رہیں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا (Priyanka Gandhi Vadra) بھی شامل ہوئیں۔ گزشتہ منگل سے ہی کانگریس میں بڑی میٹنگ کا دور جاری ہے۔ دھیان رکھنے والی بات یہ ہے کہ کمل ناتھ کو کانگریس کا کارگزار صدر بنائے جانے کی بھی بات چل رہی ہے۔


یوپی میں کمل ناتھ کے بہتر تعلقات


کانگریس ریاست میں اپوزیشن کا کردار نبھا رہی سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ الیکشن لڑنے پر غور کر رہی ہے۔ وہیں دونوں پارٹیوں سے کمل ناتھ کے تعلقات کافی اچھے مانے جاتے ہیں۔ حالانکہ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں ہی کانگریس اور سماجوادی پارٹی ایک ساتھ انتخابی میدان میں اتری تھیں، لیکن تب اتحاد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور بی جے پی نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں حکومت بنائی تھی۔


سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سماجوادی پارٹی اور مایاوتی کی قیادت والی بی ایس پی کے درمیان بھی سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔
سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سماجوادی پارٹی اور مایاوتی کی قیادت والی بی ایس پی کے درمیان بھی سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔


کیا تھا 2017 کے اتحاد کا فارمولہ

پانچ سال پہلے ساتھ آئی کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے درمیان ریاست کی 403 سیٹوں کی تقسیم کو لے کر طویل تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ آخر میں سماجوادی پارٹی نے 298 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ کانگریس کے حصے میں 105 سیٹیں آئی تھیں۔ دوسری جانب سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سماجوادی پارٹی اور مایاوتی کی قیادت والی بی ایس پی کے درمیان بھی سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ اس دوران ہوئے اتحاد کو ریاست کی 80 سیٹوں میں سے 15 سیٹوں پر جیت ملی تھی۔ دونوں پارٹی سربراہان نے واضح کردیا ہے کہ وہ دوبارہ ساتھ نہیں آئیں گے۔

بی ایس پی بھی مشکل میں

بی ایس پی سربراہ مایاوتی مسلسل اراکین اسمبلی کو پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا رہی ہیں۔ سال 2017 کے الیکشن میں بی ایس پی کے 19 میں سے 11 اراکین اسمبلی کو مایاوتی نے پارٹی سے نکال دیا ہے جبکہ ایک کو ضمنی انتخابات میں شکست ملی۔ حال ہی میں بی ایس پی نے سینئر لیڈر لال جی ورما اور قومی جنرل سکریٹری رام اچل راج بھر کو بھی باہر کیا ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں ہوئے پنچایت انتخابات میں بھی بی ایس پی کی کارکردگی کافی خراب رہی ہے۔ پارٹی نے پنجاب اسمبلی انتخابات کے لئے شرومنی اکالی دل کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا ہے۔

ارون سنگھ کی رپورٹ
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 15, 2021 04:25 PM IST