உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Communal Violence: فرقہ وارانہ تشدد کو لے کر مرکز کے خلاف متحد ہوا اپوزیشن، 13 لیڈران نے جاری کیا مشترکہ بیان

    فرقہ وارانہ تشدد کو لے کر مرکز کے خلاف متحد ہوا اپوزیشن

    فرقہ وارانہ تشدد کو لے کر مرکز کے خلاف متحد ہوا اپوزیشن

    پورے ملک میں پیش آنے والے فرقہ وارانہ حادثات (Communal Violence) کو لے کر ہفتہ کے روز اپوزیشن جماعتوں (Opposition Party) نے تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے لئے کئی اپوزیشن پارٹیوں نے ایک ساتھ مل کر مرکزی حکومت کے برتاو پر مایوسی کا اظہار کیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پورے ملک میں پیش آنے والے فرقہ وارانہ حادثات (Communal Violence) کو لے کر ہفتہ کے روز اپوزیشن جماعتوں (Opposition Party) نے تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے لئے کئی اپوزیشن پارٹیوں نے ایک ساتھ مل کر مرکزی حکومت کے برتاو پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ہفتہ کے روز 13 اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران ایک ساتھ متحد ہوئے اور فرقہ وارانہ تشدد پر وزیر اعظم مودی کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کیا۔

      پورے ملک میں حال ہی میں پیش آنے والے فرقہ وارانہ حادثات پر مرکز کے رویے کو لے کر 13 اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے مشترکہ بیان جاری کیا۔ اس میں سونیا گاندھی، ممتا بنرجی، ہیمنت سورین، شرد پوار، ایم کے اسٹالن، تیجسوی یادو سمیت کئی دیگر اپوزیشن لیڈروں نے شہریوں سے امن وامان بنائے رکھنے اور تشدد کے قصوروار مجرمین کو سخت سے سخت سزا دینے کی اپیل کی۔



      اپوزیشن لیڈروں نے کہا کہ ہم فرقہ وارانہ تشدد کو لے کر مرکزی حکومت کے رویے سے حیران ہیں، جو ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے میں پوری طرح سے ناکام رہی ہے، جو شدت پسندی کی تشہیر کرتے ہیں اور اپنی زبان اور الفاظ کے ذریعہ سے ملک کے لوگوں کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں۔

      اپوزیشن نے الزام لگایا کہ آج سماج کا پولرائزیشن کرنے کے لئے پوشاک، تہواروں، زبان کے ساتھ ساتھ آستھا کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن ان کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ لیڈران نے لوگوں سے امن وامان بنائے رکھنے کی اپیل کی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: