உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سونیا گاندھی کی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ میٹنگ، مشن 2024 کے لئے بنا بڑا پلان، ایس پی-بی ایس پی میٹنگ سے ندارد

    Sonia Gandhi Meeting: سونیا گاندھی نے کہا، ’آخری ہدف 2024 لوک سبھا الیکشن ہے، جس کے لئے منظم طریقے سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ یہ ایک چیلنج ہے، لیکن ہم مل کر یہ کر سکتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ سب کی اپنی مجبوریاں بھی ہیں، لیکن قوم کے مفاد کا مطالبہ ہے کہ ہم سب اپنی مجبوریوں سے اوپر اٹھیں۔

    Sonia Gandhi Meeting: سونیا گاندھی نے کہا، ’آخری ہدف 2024 لوک سبھا الیکشن ہے، جس کے لئے منظم طریقے سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ یہ ایک چیلنج ہے، لیکن ہم مل کر یہ کر سکتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ سب کی اپنی مجبوریاں بھی ہیں، لیکن قوم کے مفاد کا مطالبہ ہے کہ ہم سب اپنی مجبوریوں سے اوپر اٹھیں۔

    Sonia Gandhi Meeting: سونیا گاندھی نے کہا، ’آخری ہدف 2024 لوک سبھا الیکشن ہے، جس کے لئے منظم طریقے سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ یہ ایک چیلنج ہے، لیکن ہم مل کر یہ کر سکتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ سب کی اپنی مجبوریاں بھی ہیں، لیکن قوم کے مفاد کا مطالبہ ہے کہ ہم سب اپنی مجبوریوں سے اوپر اٹھیں۔

    • Share this:

      نئی دہلی: کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ملک کی کئی اہم اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ڈیجیٹل میٹنگ میں جمعہ کو یہ یقین دہانی کرائی کہ پارلیمنٹ کے آنے والے سیشن کے دوران بھی اپوزیشن کا اتحاد قائم رہے گا۔ حالانکہ، اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کے اشارے بھی دیئے کہ بڑی سیاسی لڑائی پارلیمنٹ کے باہر لڑی جانی ہے۔ ان کے کہنے کا مطلب 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے تھا۔


      سونیا گاندھی نے کہا، ’آخری ہدف 2024 لوک سبھا الیکشن ہے، جس کے لئے منظم طریقے سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ یہ ایک چیلنج ہے، لیکن ہم مل کر یہ کر سکتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ سب کی اپنی مجبوریاں بھی ہیں، لیکن قوم کے مفاد کا مطالبہ ہے کہ ہم سب اپنی مجبوریوں سے اوپر اٹھیں۔


      اس میٹنگ میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار، کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن، نیشنل کانفرنس کے لیڈر فاروق عبداللہ اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سمیت 15 سے زیادہ پارٹیوں کے لیڈر شامل تھے۔ حیران کرنے والی بات یہ رہی کہ اس میٹںگ میں سماجوادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی طرف سے کوئی بھی شامل نہیں ہوا۔


      ذرائع کے مطابق، سونیا گاندھی ملک کے اہم موضوعات پر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ لے کر حکومت کو گھیرنے کی کوشش میں ہیں اور اسی کوشش کے تحت یہ میٹنگ بلائی گئی تھی۔ اپوزیشن جماعت قومی سطح پر بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کا مقابلہ کرنے کے واسطے متحد ہونے کے لئے کوششیں کر رہا ہے تاکہ آئندہ لوک سبھا الیکشن میں اپوزیشن کی طرف سے سخت چیلنج پیش کیا جاسکے۔


      حال ہی میں ختم ہوئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران پیگاسس جاسوسی تنازعہ، کسان آندولن اور مہنگائی کے موضوع پر حکومت کے خلاف اپوزیشن اتحاد دیکھنے کو ملی۔ اس دوران کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اپوزیشن اتحاد کی پوری قواعد کے مرکزی کردار کے طور پر نظر آئے۔ سونیا گاندھی نے یہ میٹنگ پیگاسس جاسوسی تنازعہ اور اسے لے کر پارلیمنٹ کے حال میں ختم ہوئے مانسون سیشن میں ہوئے ہنگامے کو لے کر جاری الزام تراشی اور جوابی الزام تراشی کے درمیان بلائی۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: