کورونا پر سونیا گاندھی نے کہا : سیاسی جماعتوں کی رضامندی سے قومی پالیسی بنائے حکومت
سونیا گاندھی نے کہا کہ کورونا کا سب سے سنگین اثر غریبوں پر پڑ رہا ہے ۔ ملک کا ہر غریب وبا کی وجہ سے بحران میں آگیا ہے ۔ مرکز اور ریاستی حکومت کی ذمہ داری مزدوروں کی ہجرت روکنا اور انہیں مناسب مدد پہنچانا ہے ۔
- UNI
- Last Updated: May 01, 2021 05:56 PM IST
کورونا پر سونیا گاندھی نے کہا : سیاسی جماعتوں کی رضامندی سے قومی پالیسی بنائے حکومت
نئی دہلی : کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کورونا سے نمٹنے کے لئے متحد ہوکر کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے سنیچر کو کہا کہ حکومت کو وبا کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کی رضامندی سے قومی پالیسی بنانی چاہئے۔ سونیا گاندھی نے جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اس وبا سے متحد ہوکر ہی نمٹا جاسکتا ہے اور اس لئے جہاں تک ممکن ہو ایک دوسرے کی ہرمدد کرنی چاہئے ۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں کے لئے یہ وقت بیدار ہونے اور فرض کی ادائیگی کا ہے ، اس لئے کسی تفریق کے بغیر متاثرین کی مدد کی جانی چاہئے ۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کا سب سے سنگین اثر غریبوں پر پڑ رہا ہے ۔ ملک کا ہر غریب وبا کی وجہ سے بحران میں آگیا ہے ۔ مرکز اور ریاستی حکومت کی ذمہ داری مزدوروں کی ہجرت روکنا اور انہیں مناسب مدد پہنچانا ہے ۔
कोरोना महामारी के इस चुनौतीपूर्ण समय में आपके व आपके परिवार की सुरक्षा और अच्छे स्वास्थ्य की कामना करती हूं। वह लाखों परिवार जिन्होंने अपने परिजनों को खोया है, उनके प्रति दिल से अपनी संवेदना व्यक्त करती हूं।
- कांग्रेस अध्यक्षा, श्रीमती सोनिया गांधी#COVID19India pic.twitter.com/btmCeG8K6B
— Congress (@INCIndia) May 1, 2021
سونیا گاندھی نے کہا کہ میری حکومت سے گزارش ہے کہ وہ سب سے پہلے غریبوں کی سوچے اور ان کی ہجرت کو روکنے کیلئے جد و جہد ختم ہونے تک ہر کنبہ کے اکاونٹ میں کم از کم 6000 روپے ڈالے ۔ اسپتالوں کو آکسیجن جنگی پیمانہ پر دستیاب کرایا جائے ۔ تمام اہل وطن کیلئے کورونا سے بچاو کا انتظام ہو ، تاکہ لوگوں کو بچایا جاسکے ۔
ملک میں کورونا کے دنیا بھر میں سب سے زیادہ معاملات
ادھر ہندوستان میں عالمی وبا کورونا کا تیزی سے پھیلاؤ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران اس انفیکشن کے چار لاکھ 1993 معاملات سامنے آئے ہیں جو دنیا بھر میں سب سےزیادہ ہیں ۔ صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے ہفتے کو یہ اطلاع دی ۔ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران تین ہزار 523 لوگوں کی کورونا سے موت ہوگئی ، جس کے ساتھ اس انفیکشن سے مرنے والوں کی تعداد دو لاکھ 11 ہزار 853 ہوگئی ۔ راحت کی بات ہے کہ اب تک ایک کروڑ 56 لاکھ 80 ہزار مریضوں نے کورونا کو مات دی ہے۔
ماہرین کے جائزے کے مطابق ہندوستان کے کورونا وائرس معاملات اگلے ہفتے تین سے پانچ نئی درمیان عروج پر ہو سکے ہیں ۔ انفیکشن پر نظر رکھنے کیلئے تشکیل ماہرین کے گروپ کے سربراہ ایم ودھا ساگر کے مطابق ہمارا اندازہ ہے کہ اگلے ہفتے تک ، ملک بھر میں روز بڑھے ہوئے کورونا کے معاملات سامنے آئیں گے۔










