உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Tamil Nadu: تمل ناڈو کے تھانجاور میں مندر کا رتھ جلوس ہوا ماتم میں تبدیل، بچوں سمیت 11 افراد ہلاک

    رتھ کو اس دوران مکمل طور پر نقصان پہنچا ہے۔ (تصویر: ANI)

    رتھ کو اس دوران مکمل طور پر نقصان پہنچا ہے۔ (تصویر: ANI)

    یہ واقعہ بدھ کی صبح قریبی کلیمیدو گاؤں میں اس وقت پیش آیا جب اپر مندر کی رتھ جلوس نکالا جا رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مندر کی گاڑی موڑنے کی کوشش میں تھی جب اسے کسی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا اور وہ الٹ گئی۔ پولیس اور عینی شاہدین نے بتایا کہ پلٹتے ہوئے، رتھ اوور ہیڈ لائن سے رابطے میں آیا اور شعلوں کی لپیٹ میں آگیا۔

    • Share this:
      پولیس نے بدھ کو بتایا کہ تمل ناڈو (Tamil Nadu) کے ضلع تھانجاور (Thanjavur) میں ایک مندر کے رتھ کے جلوس کے دوران بجلی کا کرنٹ لگنے سے 11 افراد بشمول بچوں کی موت ہو گئی۔ اس واقعے میں کم از کم 15 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن (MK Stalin) نے ہر مرنے والوں کے لیے 5 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے، وزیر اعلیٰ کے دفتر نے آج صبح اعلان کیا۔

      یہ واقعہ بدھ کی صبح قریبی کلیمیدو گاؤں میں اس وقت پیش آیا جب اپر مندر کی رتھ جلوس نکالا جا رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مندر کی گاڑی موڑنے کی کوشش میں تھی جب اسے کسی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا اور وہ الٹ گئی۔ پولیس اور عینی شاہدین نے بتایا کہ پلٹتے ہوئے، رتھ اوور ہیڈ لائن سے رابطے میں آیا اور شعلوں کی لپیٹ میں آگیا۔


      خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق تمل ناڈو میں کم از کم 10 لوگوں کی موت اس وقت ہوئی جب ایک مندر کی کار (رتھ فیسٹیول کی) ضلع تھانجاور میں ایک زندہ تار سے رابطے میں آ گئی۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔



      مزید پڑھیں: سینٹرل ریزرو پولیس فورس بھرتی 2022: یہاں سرکاری نوٹیفکیشن چیک کریں:

      رتھ پر کھڑے لوگ بجلی کی زد میں آکر گر گئے۔ ٹی وی چینلز کے ذریعے حاصل کیے گئے مناظر میں دکھایا گیا ہے کہ رتھ کو اس حملے میں مکمل طور پر نقصان پہنچا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: تلنگانہ : اردو میڈیم اساتذہ کی خالی اسامیوں پرجلد ہوسکتی ہے بھرتی، آئندہ 2دنوں میں ہوگا اجلاس

      پولیس نے بتایا کہ جن لوگوں کو چوٹیں آئی ہیں انہیں تھانجاور میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے۔ یہ جلوس تمل ناڈو میں سالانہ رتھ فیسٹیول کا حصہ تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: