உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تلنگانہ میں چار فیصد مسلم ریزرویشن پر آج سپریم کورٹ میں سماعت، جانیے تفصیلات

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    4% Muslim reservation: میڈیا رپورٹس کے مطابق 25 مارچ 2010 کو سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے 4 فیصد مسلم ریزرویشن کے نفاذ پر روک لگا دی تھی، اور بی سی ای گروپ کے تحت درج 14 زمروں کے لیے کوٹہ جاری رکھنے کا حکم دیا تھا جب اس معاملہ پر آئینی بنچ نے اگلے حکم کا حوالہ دیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad | Delhi | Mumbai | Lucknow | Karnal
    • Share this:
      تلنگانہ کانگریس نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ (K Chandrashekar Rao) اور آندھرا پردیش کے ان کے ہم منصب وائی ایس جگن موہن ریڈی (S Jagan Mohan Reddy) پر زور دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں مسلمانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں 4 فیصد ریزرویشن کا دفاع کرنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) سے گفتگو کریں۔ اس معاملے کی سماعت 13 ستمبر یعنی آج سے شروع ہوگی۔

      اگلے سال اسمبلی انتخابات سے قبل حکمراں تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) اس خوف سے مسلم ریزرویشن کے مسئلہ پر بات کرنے سے محتاط رہی ہے کہ بی جے پی پولرائزیشن کے لئے اس کا استحصال کرسکتی ہے۔ جب کہ بی جے پی نے پہلے ہی کے سی آر حکومت کو 17 ستمبر کو ’تلنگانہ اسٹیٹ لبریشن ڈے‘ منانے کے منصوبوں کا اعلان کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

      آندھرا پردیش میں حکمراں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی زیر قیادت حکومت مسلم کوٹہ کے معاملے کو اٹھانے سے بھی محتاط نظر آتی ہے، جو مختلف پروجیکٹوں کے لیے مرکزی فنڈز کی تلاش میں ہے۔ سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں مسلم ریزرویشن کا اعلان غیر منقسم آندھرا پردیش میں اس وقت کی کانگریس حکومت نے 2004 میں وائی ایس راج شیکر ریڈی کی سربراہی میں کیا تھا۔ اس کے بعد کئی افراد نے اسے عدالتوں میں چیلنج کیا۔

      25 مارچ 2010 کو سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے 4 فیصد مسلم ریزرویشن کے نفاذ پر روک لگا دی تھی، اور بی سی ای گروپ کے تحت درج 14 زمروں کے لیے کوٹہ جاری رکھنے کا حکم دیا تھا جب اس معاملہ پر آئینی بنچ نے اگلے حکم کا حوالہ دیا تھا۔

      12 سال کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا یو یو للت کی سربراہی میں اور جسٹس دنیش مہیشوری، ایس رویندر بھٹ، بیلا ایم ترویدی اور جے بی پارڈی والا پر مشتمل پانچ ججوں کی آئینی بنچ 13 ستمبر یعنی آج مسلم ریزرویشن کی آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کرے گی۔

      یہ بھی پڑھیں:


      اس کے علاوہ معاشی طور پر کمزور طبقوں کے ساتھ ساتھ آندھرا پردیش (بشمول تلنگانہ) میں مسلمانوں کو سماجی اور اقتصادی طور پر پسماندہ طبقے (SEBC) کے لیے دیئے گئے ریزرویشن پر سماعت ہوگی۔ بینچ نے سماعت اور دیگر قبل از سماعت مراحل کی تکمیل کے لیے ٹائم لائن مقرر کی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: