ہوم » نیوز » No Category

آندھراپردیش اسمبلی سے وائی ایس آر کانگریس کے 50 ممبران اسمبلی معطل

حیدرآباد : کال منی معاملہ پر مباحثہ کے لئے دباو ڈالنے کیلئے احتجاج کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے پر آندھراپردیش اسمبلی میں اصل اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے 50ارکان اسمبلی جن میں حزب اختلاف کے رہنما جگن موہن ریڈی شامل ہیں ، کو معطل کردیا گیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 18, 2015 06:32 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آندھراپردیش اسمبلی سے وائی ایس آر کانگریس کے 50 ممبران اسمبلی معطل
حیدرآباد : کال منی معاملہ پر مباحثہ کے لئے دباو ڈالنے کیلئے احتجاج کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے پر آندھراپردیش اسمبلی میں اصل اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے 50ارکان اسمبلی جن میں حزب اختلاف کے رہنما جگن موہن ریڈی شامل ہیں ، کو معطل کردیا گیا۔

حیدرآباد : کال منی معاملہ پر مباحثہ کے لئے دباو ڈالنے کیلئے احتجاج کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے پر آندھراپردیش اسمبلی میں اصل اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے 50ارکان اسمبلی جن میں حزب اختلاف کے رہنما جگن موہن ریڈی شامل ہیں ، کو معطل کردیا گیا۔


حزب اختلاف کے ارکان کو دستور اور دستورسازی میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے رول پر مباحث کے اختتام تک معطل کردیا گیا اور معطل ارکان میں سے بعض کو اس وقت مارشلس کے ذریعہ ایوان سے باہر نکال دیا گیا جب انہوں نے ایوان سے باہر جانے سے انکار کردیا۔


اسپیکر کے سیواپرساد راو دستور پر مباحثہ کا آغاز کرنا چاہتے تھے کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان نے کال منی معاملہ پر بحث کی خواہش کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور اس پر بحث کروانے کا مطالبہ کیا۔ ان ارکان نے اپنے مطالبہ کی حمایت میں ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی۔


اسپیکر سیواپرساد راو نے گڑبڑ میں ایوان کی کارروائی کو ملتوی کردیا تاہم جب ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو ایوان میں ایسے ہی مناظر دیکھے گئے ۔


 وائی ایس آر کانگریس کا احتجاج


ادھر رہنما جگن موہن ریڈی اور ان کی پارٹی کے ارکان اسمبلی نے ایوان سے معطلی کے بعد سڑک پر دھرنا دیا۔ وائی ایس آر کانگریس لیجسلیچر پارٹی آفس میں جگن کی صدارت میں میٹنگ کے بعد ان کی پارٹی کے اران اسمبلی سڑک پر چلے گئے ۔


اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جگن موہن ریڈی نے کال منی معاملہ میں ملوث مبینہ ملزمین کے ساتھ وزیراعلی چندرا بابونائیڈو اور ان کی پارٹی کے دیگر لیڈران کی تصاویر کو دکھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چندرابابونائیڈو سیاسی فائدہ کے لئے امبیڈکر کے نام کا استعمال کررہے ہیں ۔

First published: Dec 18, 2015 06:32 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading