ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

آن لائن بزنس کا نیا دور شروع ہو چکا ہے ، نوجوان آگے آئیں ، بنگلورو میں MIA کی بیداری مہم

ایم آئی اے کے Skill ڈیولپمنٹ کیندرا کی جوائنٹ سکریٹری سفینہ ناز ان دنوں گھریلو خواتین کو رہنمائی فراہم کرنے کا کام انجام دے رہی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ میں تقریبا 400 خواتین کو مفت رہنمائی اور تربیت فراہم کی گئی ہے اور کئی خواتین نے گھر بیٹھے تجارت کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔

  • Share this:
آن لائن بزنس کا نیا دور شروع ہو چکا ہے ، نوجوان آگے آئیں ، بنگلورو میں MIA کی بیداری مہم
آن لائن بزنس کا نیا دور شروع ہو چکا ہے ، نوجوان آگے آئیں ، بنگلورو میں MIA کی بیداری مہم

لاک ڈاؤن اور کورونا وبا کی وجہ سے ملک میں معاشی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ کئی نوجوان کے ملازمتوں سے محروم ہونے، تنخواہوں میں کٹوتی، تجارت متاثر ہونے، کمپنیوں کے بند ہونے،  پروڈکشن میں کمی اس طرح کے کئی معاملات سامنے آرہے ہیں۔ لیکن ان حالات میں امید کی کرنیں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ آن لائن بزنس کا نیا دور شروع ہوچکا ہے۔ نئے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ نہ صرف پیشہ ورانہ افراد بلکہ ہنر مند گھریلو خواتین کیلئے بھی ڈھیر سارے مواقع پیدا ہوچکے ہیں ۔ بنگلورو میں مسلم Industrialists ایسوسی ایشن (MIA) کے نمائندوں نے یہ بات کہی ۔ ایم آئی اے کے Skill ڈیولپمنٹ کیندرا سے وابستہ صنعتی امور کے ماہر محمد خواجہ حیات حسین جیلانی اور صنعت کارہ  سفینہ ناز ان دنوں لاک ڈاؤن سے پریشان تاجروں ، ملازمتوں سے محروم نوجوانوں ، یا پھر تجارت و صنعت کے نئے مواقع ڈھونڈنے والے افراد کو مفت رہنمائی فراہم کررہے ہیں ۔


آئی آئی ایم بنگلورو سے فارغ محمد خواجہ حیات حسین جیلانی کئی بڑی کمپنیوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔  تجارتی اور تعلیمی اداروں کیلئے بحیثیت ایڈوائزر کام کررہے ہیں۔ اب مسلم Industrialists ایسوسی ایشن کے Skill ڈیولپمنٹ کیندرا سے وابستہ ہوکر رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ محمد خواجہ جیلانی نے کہا کہ طویل لاک ڈاؤن سے معیشت پر منفی اور مثبت دونوں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ منفی اثرات یہ ہیں کہ کئی افراد کی نوکریاں  چلی گئی ہے، تنخواہوں میں کٹوتی ہوئی ہے۔ چھوٹے تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ اس طرح کے ڈھیر سارے مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔ محمد خواجہ جیلانی کہتے ہیں کہ ان حالات سے مایوس ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔ زوال کے بعد عروج معاشی نظام کا دستور ہے۔ لاک ڈاؤن کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اس دوران ملک بھر میں آن لائن بزنس کئی گنا بڑھ چکا ہے ۔ روایتی تجارت، غیر منظم کاروبار اب تیزی کے ساتھ صنعت کی شکل اختیار کررہا ہے۔


جیلانی کہتے ہیں کہ نئے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ بڑے شہر میں اسٹارٹ اپ کی تعداد بڑھ چکی ہے۔  نئے نئے منصبوں کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر کئی کمپنیاں کھل رہی ہیں ۔ بڑی اور چھوٹی کمپنیوں کے درمیان اشتراک سے بھی بزنس فروغ پا رہا ہے ۔ طویل لاک ڈاون کے بعد چھوٹے پیمانے پر کمپنیاں شروع کرنے کیلئے اب ماحول ساز گار بن رہا ۔ انٹرنیٹ ٹکنالوجی کی مدد سے کم اخراجات کے ساتھ لوگ تجارت کر سکتے ہیں یا پھر اپنی تجارت کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔ جیلانی نے کہا کہ آن لائن بزنس کیلئے درکار سافٹ ویئر ، خصوصی موبائیل ایپ جو کافی مہنگے ہوا کرتے تھے اب کم قیمت میں دستیاب ہیں۔ انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی کی مدد سے گھر بیٹھے تاجر حضرات صارفین تک پہونچ سکتے ہیں اور اپنے لین دین کو آگے بڑھا سکتے ہیں ۔ لہذا ان بدلتے ہوئے حالات میں تجارت اور صنعت کے نئے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں ۔ بنگلورو میں مسلم Industrialists ایسوسی ایشن کی ان دنوں خصوصی بیداری مہم جاری ہے ۔ اس ادارے کے تحت سلسلہ وار 6 ویبینار  منعقد یوئے ہیں جس میں محمد خواجہ حیات حسین جیلانی اور دیگر نے صنعت اور تجارت کے نئے مواقع، نئے طریقوں، بزنس کے نئے نمونوں پر خطاب کیا ہے۔


ایم آئی اے کے Skill ڈیولپمنٹ کیندرا کی جوائنٹ سکریٹری سفینہ ناز ان دنوں گھریلو خواتین کو رہنمائی فراہم کرنے کا کام انجام دے رہی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ میں تقریبا 400 خواتین کو مفت رہنمائی اور تربیت فراہم کی گئی ہے اور کئی خواتین نے گھر بیٹھے تجارت کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ سفینہ ناز کہتی ہیں کہ ہر خاتون میں ایک بہترین صنعتکار بننے کی صلاحیت موجود ہے ۔ خاص طور پر گھریلو خواتین اگر چاہیں تو اپنے ہنر کو تجارت میں تبدیل کر سکتی ہیں ۔ آن لائن بزنس کے اس دور میں خواتین گھر بیٹھے اپنی صلاحیتوں اور ہنر کے ذریعہ خاندان کی معاشی تنگ دستی کو دور کر سکتی ہیں ۔  سفینہ ناز نے کہا گھریلو خواتین جو لذیذ اور چٹ پٹے پکوان بنانا جانتی ہوں ، مٹھائیاں ، بیکری آئٹمس کے نسخوں سے واقف ہوں ،  کپڑے سینے ، کشیدہ کاری ، مہندی آرٹ اس طرح دیگر ہنر جانتی ہوں، ایسی خواتین کیلئے گھر بیٹھے تجارت کے مواقع موجود ہیں۔ ان خواتین کو  مسلم Industrialists ایسوسی ایشن مفت رہنمائی اور تربیت فراہم کررہا ہے۔

واضح رہے کہ سال 2014 میں قائم مسلم Industrialists ایسوسی ایشن بنگلورو کے مسلم تاجروں اور صنعتکاروں کا ادارہ ہے۔ یہ ادارہ مختلف جہتوں پر کام کرتا ہوا آرہا ہے۔ مسلم طبقہ میں معاشی بیداری لانا، نوجوانوں کو صنعت کاری کی جانب مائل کرنا، تجارت کے نئے نئے مواقع سے لوگوں کو واقف کروانا،  کمپنیوں کے ریجسٹریشن، تجارتی قوانین، ٹیکس،  اسطرح کی معلومات اور رہنمائی فراہم کرنا ایم آئی اے کے مقاصد میں شامل ہے۔ بھلے ہی  یہ ادارہ مسلم طبقے کیلئے قائم کیا گیا ہو لیکن بلا لحاظ مذہب و ملت خدمت انجام دیتا ہوا آرہا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 26, 2020 11:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading